وینکٹ رام ریڈی کا پرچہ نامزدگی مسترد کیا جائے، ریونت ریڈی اور بھٹی وکرامارکا کا مطالبہ
حیدرآباد۔/17 نومبر، ( سیاست نیوز)کانگریس پارٹی نے سابق کلکٹر وینکٹ رام ریڈی کی کونسل امیدواری مسترد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف الیکٹورل آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر سے نمائندگی کی ہے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، سابق وزیر محمد علی شبیر، سابق رکن اسمبلی آر دامودر ریڈی اور سابق وزیر ایس چندر شیکھر پر مشتمل وفد نے چیف الیکٹورل آفیسر ششانک گوئل سے ملاقات کی۔ انہوں نے یادداشت پیش کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وینکٹ رام ریڈی کے خلاف کرپشن کے کئی مقدمات زیر دوران ہیں۔ سی بی آئی ان کے خلاف جانچ کررہی ہے۔ قائدین نے بتایا کہ صدر جمہوریہ اور مرکزی وزارت پرسونل اینڈ ٹریننگ کے پاس وینکٹ رام ریڈی کے خلاف شکایت زیر التواء ہے ۔ ایسے میں کونسل کے انتخابات میں ان کی امیدواری کو ہرگز قبول نہیں کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے اسمبلی پہنچ کر کونسل انتخابات کے ریٹرننگ آفیسر سے ملاقات کی اور تفصیلی یادداشت پیش کی۔ ریونت ریڈی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سابق کلکٹر سدی پیٹ وینکٹ رام ریڈی کو استعفی کے اندرون 24 گھنٹے ٹی آر ایس نے ایم ایل سی امیدوار بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طریقہ کار کے تحت پرچہ نامزدگی کے ادخال کے فوری بعد امیدوار کے حلف نامہ کو عوام کے مشاہدہ کیلئے ویب سائیٹ پر پیش کیا جاتا ہے لیکن ٹی آر ایس امیدواروں کے معاملہ میں ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے عوام کو نمائندگی کی سہولت فراہم کرنے پرچہ جات نامزدگی کے تمام کاغذات ویب سائیٹ پر پیش کئے جاتے ہیں لیکن ٹی آر ایس نے عہدیداروں کی ملی بھگت سے شکایتوں سے بچنے کیلئے ویب سائیٹ پر تفصیلات پیش نہیں کی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ پرچہ نامزدگی کی جانچ کی تکمیل کے بعد تفصیلات کو آن لائن کیا گیا تاکہ شکایت کا موقع باقی نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ پرچہ جات کی جانچ کے وقت سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو موجودگی کی اجازت دی جاتی ہے لیکن ریٹرننگ آفیسر نے کانگریس کو اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ عہدیداروں کے رویہ سے کانگریس کے شبہات کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نئی دہلی سے عہدیداروں کے رویہ کے خلاف شکایت کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی آئی اے ایس عہدیدار کے استعفی کے بعد صرف چیف سکریٹری کی منظوری کافی نہیں ہے۔ مرکزی وزارت پرسونل اینڈ ٹریننگ کی جانب سے نوٹیفکیشن کی اجرائی کے بعد استعفی منظور متصور ہوتا ہے۔ وینکٹ رام ریڈی کے خلاف صدر جمہوریہ، سی بی آئی اور ہائی کورٹ کے پاس شکایات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر وینکٹ رام ریڈی کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ر
گورنر اے پی کی صحت یابی کیلئے تلنگانہ کی گورنر کی نیک تمنائیں
حیدرآباد 17 نومبر ( یو این آئی ) تلنگانہ کی گورنر ڈاکٹرتمیلی سائی سوندراراجن نے پڑوسی ریاست آندھراپردیش کے اپنے ہم منصب وشوابھوشن ہری چندن کی جلد صحت مندی کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا جن کوصحت کی خرابی کے سبب حیدرآباد کے ایک پرائیویٹ ہاسپٹل میں داخل کروایاگیا ہے ۔سوشیل میڈیا کے اہم پلیٹ فارم ٹوئیٹر پر سرگرم تمیلی سائی سوندراراجن نے اس خصوص میں کئے گئے ٹوئیٹ میں ایک اور تلگوریاست کے گورنر کی صحت کے بارے میں فکرمندی کااظہار کیا جو حیدرآباد کے ایک ہاسپٹل میں زیرعلاج ہیں۔ساتھ ہی گورنر نے ان کی عاجلانہ صحت یابی اور ملک کے لئے خدمت کے لئے نیک تمناوں کااظہار کیا۔
