گلبرگہ کا نام بدل کر ’کلبرگی‘ رکھنے کیخلاف احتجاج سے متعلق مقدمہ میں راحت
گلبرگہ: ممتاز سماجی خدمت گزارمسٹر شاہ نواز خان شاہین کے صحافتی بیان کے بموجب سال 2014میں شہر گلبرگہ کا تاریخی نام بدل کر کلبرگی رکھ دئے جانے کے حکومت کرناٹک کے فیصلہ کے بعد کافی عرصہ تک اس فیصلہ کے خلاف شہریان گلبرگہ اور علاقہ حیدر آباد کرناٹک کے عوام احتجاج کرتے رہے۔ کئی تنظیموں نے اس فیصلہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس ضمن میں سات افراد پر گزشتہ سات برسوں سے مقدمہ چل رہا تھا۔ اس دوران ان میں سے ایک شخص کا انتقال بھی ہوگیا تھا۔ لیکن سات برس بعد اس معاملہ میں ساتوں افرادکو باعزت بری کردیا گیاہے۔۔اس دوران چیف منسٹر سدرامیا کی کابینہ کے ایک وزیر نے بھی گلبرگہ کا دورہ کیا تھا اور انھیں بھی گلبرگہ شہر کا نام نہ بدلنے کے لئے یادداشت پیش کی گئی تھی۔ لیکن دوسری طرف شہر گلبرگہ کا نام بدلنے کی مہم بھی تیز تھی۔ پھر گلبرگہ نام کی تائیدکرنے والے احتجاجیوں نے دفتر ڈپٹی کمشنرکے روبرو احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا تھا۔ اس معاملہ میں مختلف تنظیموں کے قائیدین کو گرفتار کرلیا گیا۔انھیں گرفتار کرکے پولیس تھانہ لے جانے کے بعد باہر عوام نے احتجاج شروع کردیا۔پولیس نے تمام کو رہا کردیا۔ ایک جانکاری کے مطابق پولیس نے 22افراد کے خلاف شکایت درج کی تھی۔ اس کے بعد چارج شیٹ میں 7نام سامنے آئے۔ایڈوکیٹ محمدمظہر حسین، ایڈوکیٹ کلیم احمد،ایڈوکیٹ وہاج باب،حبیب سرمست، محسن احمد، شیخ سراج، اورمرحوم شکیل احمد۔ شکیل احمداس مقدمہ کے دوران ہی انتقال کرگئے۔ حرکت قلب بندہوجانے کے سبب وہ اس دار فانی سیکوچ کرگئے۔ اب سات سال بعد عدالت نے ان تمام سات افراد کو باعزت کردیا ہے۔ واضح رہے کرے کہ یہ معاملہ چوک پولیس اسٹیشن میں درج کیاگیا تھا۔اس مقدمہ کے ضمن میں باعزت بری ہونے والے تمام افراد کو جناب شاہ نوازخان شاہین نے اپنی جانب سے مبارک باد پیش کی ہے۔