عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کے اردو امتحانات میں 81 ہزار امیدواروں کی شرکت
حیدرآباد / سکندرآباد کے علاوہ تلنگانہ، آندھرا اور پڑوسی ریاستوں میں 297 مراکز میں انعقاد
نئی نسل کو اُردو زبان سے واقف کروانے کیلئے امتحانات نہایت مؤثر، ماہرین اور سرکردہ شخصیات کے تاثرات
عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ذمہ داران مسز رابعہ اور نزہت نے بتایا کہ 28 اگسٹ 2022 ء کو اردو دانی، زبان دانی اور انشاء کے امتحانی مراکز کی جملہ تعداد 297 تھی۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد سے 55,563 امیدواروں نے شرکت کی۔ تلنگانہ کے اضلاع ، آندھرا کے 78 مراکز، کریم نگر، کھمم، محبوب نگر، کرنول، پرگی، ، کے علاوہ کرناٹک کے جملہ 19,524 امیدواروں نے شرکت کی۔ کرناٹک کے دیگر مقامات گلبرگہ، میسور، بسواکلیان، رنجن گاؤں، چٹگپہ ضلع بیدر سے 10,972 امیدوار اس طرح جملہ 86,059 امیدواروں نے امتحان کے لئے رجسٹریشن فارم داحل کئے جن کے منجملہ 81 ہزار امیدوار شریک امتحان رہے۔
حیدرآباد 28 اگسٹ (سیاست نیوز) عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ اور ادارہ سیاست کے زیراہتمام آج ریاست تلنگانہ اور ملک کی دیگر ریاستوں میں اردو دانی، اردو زبان دانی اور اردو انشاء کے امتحان بیک وقت منعقد ہوئے جس میں طلباء و طالبات، عصری علوم سے وابستہ نوجوانوں، آئی ٹی ماہرین، خواتین و بزرگ حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ٹرسٹ اور ادارہ سیاست کی جانب سے آج سے 28 سال پہلے اردو امتحانات کا جو پودا لگایا گیا تھا آج یہ تناور درخت بن گیا ہے۔ ان امتحانات کے انعقاد سے نئی نسلوں تک اردو زبان پہنچ رہی ہے۔ یہ امتحانات اردو زبان کی ٹھوس بنیاد فراہم کررہے ہیں۔ اردو زبان کے تحفظ، بقاء اور ترقی کی یہ ایک مضبوط تحریک بن چکی ہے۔ ان امتحانات میں شریک طلباء کا تاثر تھا کہ اردو زبان ہماری مادری زبان ہے جس کے سیکھنے سے ہم اپنی تہذیب سے جڑے رہ سکتے ہیں۔ دینی علوم سیکھنے دین پر قائم رہنے کے لئے اردو زبان میں موجود دینی باتیں اردو سیکھنے سے ہم تک پہنچ رہی ہیں۔ آج دفتر سیاست پر اردو اساتذہ، پروفیسرس، پرنسپل، ریسرچ اسکالرس، ادیب، شعراء نے مختلف مراکز کا دورہ کیا۔ امتحانات کا معائنہ کرنے والوں میں پروفیسر مظفر شہ میری، پروفیسر محمد انورالدین، پروفیسر جہانگیر، ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی، ڈاکٹر محمد ناظم علی، ڈاکٹر محمد ہلال اعظمی، ڈاکٹر شیخ محمد اسمٰعیل، ڈاکٹر جہانگیر احساس، ڈاکٹر بشیر، ڈاکٹر محمد عبدالنعیم، سید عبدالرحمن، محمد وقار، محمد عبدالعزیز، سید اصغر حسین، برکت اللہ اور دیگر شامل تھے۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی، ڈاکٹر محمد ناظم علی، محمد عبدالعزیز نے ادارہ دائرۃ البصائر چنچل گوڑہ، ماڈرن ہائی اسکول مرکز کا دورہ کیا۔ اس مرکز میں چنچل گوڑہ 150 طلباء، نوجوانوں، خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔ آئی ٹی ملازمہ سیدہ عائشہ زرین نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ امتحان میں شرکت کی۔ سید جلال الدین تقی پرسنالیٹی ڈیولپمنٹ کے ماہر، تاجرین اور نوجوان طلباء و طالبات نے شرکت کی ۔جہاں نما کے مرکز مدرسہ حبیبہ رحمت العلوم میں حافظ محمد ندیم احمد قادری کی نگرانی میں 25 طلباء و طالبات نے اردو امتحانات میں شرکت کی۔ مدرسہ شریفیہ بیرون فتح دروازہ میں حافظ محمد فاروق شریف کے اردو امتحانات مرکز میں 50 طلباء و طالبات اردو امتحانات میں شرکت کی۔ مراکز سیاست میں بی ایس این ایل سوپروائزر محمد مخدوم انجینئر اور خاتون نشاط سلطانہ کے بشمول سو سے زائد طلباء و طالبات خواتین نے شرکت کی۔ پروفیسر محمد انورالدین، جناب ظہیرالدین علی خان کی ہدایت پر اردو امتحان کے انعقاد میں سرگرم رول ادا کیا۔ سال حال نیا مرکز بہت منظم کردہ تھا وہ دائرۃ بصائر چنچل گوڑہ میں زیرنگرانی پیر و مرشد سید محمد سرفراز مہدی تشریف اللہی قبلہ میں 200 امیدواروں نے شرکت کی۔ جن میں نصف تعداد خواتین کی تھی۔ شعراء بشیر علی خان شبیر اور سعید بخاری نے امتحانات کی نگرانی کی۔ ڈان ہائی اسکول ملک پیٹ میں جناب فضل الرحمن خرم کی کے امتحان مرکز امتحان کی نگرانی کی۔ گلناز فاروقی، طاہرہ بیگم، اختر بیگم، نصرت فاطمہ، عرشیہ بیگم، تبسم، ساجدہ، صبیحہ شامل ہیں۔ اقراء مشن ہائی اسکول / جونیر کالج واقع نواب صاحب کنٹہ جہاں نما، جناب محمد ساجد علی کی زیرنگرانی میں اس کے امتحانی مرکز کے ممتحن حفصہ بیگم نے بتایا کہ انگلش میڈیم کے دوسری جماعت سے انٹر تک کے طلبہ و طالبات اس میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے کر اردو زبان سیکھ رہے ہیں۔ امتحانات کی نگرانی محمد امجد علی، نعیم النساء، نازیہ تبسم، منیرالنساء، نور جہاں نے طلباء سے تاثرات بھی قلمبند کروائے۔ آئی پی سیل انٹرنیشنل اسکول جہاں نما میں شفا ماہین اور افشاں عروج نے نگرانی کی۔ ریڈریٹ مشن اسکول میں ایک معذور طالب علم نے اردو امتحان لکھ کر حیرت زدہ کردیا۔ انیفہ صدیقہ، نصرت فاطمہ، عائشہ حسین نے ممتحن کے فرائض انجام دیئے۔ ڈاکٹر اسلم فاروقی نے تاثرات میں بتایا کہ طلبہ میں اردو زبان سے جوش و خروش دیکھا گیا۔ ڈاکٹر ناظم علی نے بتایا کہ ادارہ سیاست 28 سالوں سے اردو کا اساسی بنیادی کام انجام دے رہا ہے۔ یہ کام ان بچوں کے ذریعہ آئندہ صدیوں تک پہنچ جائے گا۔ محمد عبدالعزیز نے کہاکہ اردو کا بنیادی کام اہم و کلیدی ہے وقت کی ضرورت ہے۔ پروفیسر مظفر علی شہ میری ،ڈاکٹر محمد محامد ہلال اعظمی، محمد برکت علی نے امتحانی مرکز کے معائنہ کے بعد اپنے تاثرات قلمبند کرتے ہوئے کہاکہ اس کورس کو ڈیٹلائز کرتے ہوئے اسمارٹ فون سے مربوط کیا جاسکتا ہے۔ مارس ہائی اسکول بہادر پورہ سے 140 طلباء نے شرکت کی۔ نسرین فاطمہ نے نگرانی کی۔ کلپٹرک مشن ہائی اسکول سے 175 امیدوار شریک تھے۔ مسز بتول نے نگرانی کی۔ مدرسہ اسلامیہ معارف القرآن بشارت نگر تاڑبن سے 69 امیدواروں نے امتحان دیا۔ جناب محمد شمشیر عالم خان نے نگرانی کی۔اردو امتحانات کے مختلف مراکز کا معائنہ کے لئے ڈاکٹرس ایچ محمد بشیرالدین کی سرکردگی میں ایک وفد جس میں ڈاکٹر جہانگیر احساس، ڈاکٹر محمد عبدالنعیم، ڈاکٹر شیخ محمد اسمٰعیل، سید عبدالرحمن رحمانی، محمد وقار پر مشتمل نے کلپٹرک مشن ہائی اسکول، تاڑبن، ایم ایس مشن ہائی اسکول، حسن نگر اور مارس ہائی اسکول بہادر پورہ کا معائنہ کیا۔ کلپٹرک مشن ہائی اسکول، سنٹر انچارج سیدہ بتول فاطمہ جملہ 76 طلبہ نے اردو دانی، اردو زبان دانی اور اردو انشاء کے امتحانات میں حصہ لیا جہاں اردو انشاء میں ڈی پراوالیکا، شری لکشمی اور سری لتا کے علاوہ اردو دانی میں وجئے چوہان نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ مارس ہائی اسکول بہادر پورہ مرکز انچارج محترمہ نسرین فاطمہ کی زیرنگرانی اردو امتحانات منعقد ہوئے جس میں 100 امیدواروں نے امتحانات میں شرکت کی۔ حسن نگر میں واقع ایم ایس مشن ہائی اسکول کے طلباء میں 564 طلباء و طالبات نے اردو دانی، اردو زبان دانی اور اردو انشاء میں حصہ لیا۔ محترمہ صفیہ بیگم جو ایم اے کی ہوئی ہیں نے بھی اردو انشاء کے لئے امتحان لکھا۔
مرکز کے انچارج محمد شوکت علی نے بتایا کہ ناگفتہ بہ حالات کے باوجود ہندوستان میں اردو زبان نئی نسل میں فروغ پارہی ہے جو اس کے شاندار و تابناک مستقبل کی ضمانت ہے۔ پروفیسر سید جہانگیر نے اردو زبان کے استحکام کے لئے فکرمند تھے اس اقدام کے ذریعہ ان کی امیدیں پیدا ہوئی۔ ایم ایس مشن اسکول حسن نگر معتمد جناب محمد شوکت کے زیرنگرانی 375 طلبہ نے شرکت کی۔ غلام محمد، ارشد پیرزادہ نے گزشتہ 26 برسوں سے جاری اس مشن کی ستائش کرتے ہوئے اس کو مزید وسعت دینا چاہا۔ مرکز مدرسہ دینیہ رشیدیہ و شاہ حسینؒ، واقعہ الاوہ بی بیؓ بیرون دبیرپورہ، مرکز محبوبیہ اسلامی اسکول نزد بنگلہ بینی دبیرپورہ اردو دانی، زبان دانی، انشاء تحریری امتحانات منعقد ہوئے۔ دونوں مراکز کے طلباء و طالبات، مرد و خواتین، ڈاکٹرس اور انجینئرس جملہ تعداد 263 شریک امتحان تھے۔ صدر سوسائٹی ڈاکٹر سید شاہ یوسف حسین کی نگرانی میں ممتحن کے فرائض جناب محمد مصطفی، جناب غلام متین الدین، حافظ محمد شوکت اللہ خان، جناب محمد غوث الدین، محترمہ ثمرین بیگم، محترمہ جویریہ تبسم، محترمہ عائشہ بیگم، محترمہ مہوش فاطمہ، مصباح الدین آصف، جناب ذکی الدین ہاتف، جناب سید ابوالخیر جاوید، حافظ محمد عبدالسلطان، قاری محمد دستگیر خان قادری ذمہ دار مراکز موجود تھے۔ قاری محمد دستگیر خان قادری نے بتایا کہ جناب زاہد علی خاں، جناب ظہیرالدین علی خاں، جناب عامر علی خاں اور اُن کے تمام ٹرسٹی اصحاب کو مبارکباد دی اور مراکز کا معائنہ کرنے والوں کا استقبال کیا۔ جامعۃ المؤمنات مغلپورہ کے لگ بھگ 350 طلبہ وطالبات شریک امتحان رہے۔ اس موقع پر مفتی حافظ محمد مستان علی قادری ، حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ ان امتحانات کے انعقاد کا اصل مقصد اردو کی ترویج واشاعت ،نئی نسل کو اردو زبان سے واقف کروانا اور ان کے اندر اردو بولنے ،لکھنے، پڑھنے کی استطاعت پیدا کرنا ہے ۔ دور حاضر میں ادارہ سیاست اور عابد علی خاں ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے مذکور امتحانات کا انعقاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جو قابل ستائش اور قابل تعریف ہے۔ حافظہ رضوانہ زرین کی راست نگرانی میں منعقد ہوئے۔ ان میں امتحانا ت میں ممتہنین ونگران کار کے فرائض انجام دینے والوں میں مفتیہ ناظمہ عزیز مؤمناتی، مفتیہ تہمینہ تحسین، ڈاکٹرمفتیہ سیدہ عشرت بیگم، مفتیہ ادیبہ آفرین، حافظہ ثریدہ عذرین، حافظہ شاہین بانو، محترمہ بشریٰ فاطمہ، محترمہ آمنہ بیگم، محترمہ سمیہ قریشی، محترمہ واجدہ خاتون، محترمہ ثمرین بیگم، محترمہ عائشہ صدیقہ، محترمہ شہباز، محترمہ آصفہ ، محترمہ کبیر النساء ، کوزگی کوثر، حافظہ شاہدہ پروین، عالمہ حلیمہ خاتون، محترمہ تسلیم بیگم، محترمہ عائشہ بیگم، مفتی شیخ عابدعلی، مولانا اسماء الحسن مدنی، قاضی شمس الدین فاروقی ، مفتی عمران، مفتی عبد الرحیم، جناب عبد الحفیظ شامل ہیں۔