ہنمنت راؤ کی میوزیم حکام سے ملاقات، حقیقی مجاہدین آزادی کو نظرانداز کرنے کا الزام
حیدرآباد 30 مئی (سیاست نیوز) سالار جنگ میوزیم میں آزادی کے امرت مہا اُتسو تقاریب میں حقیقی مجاہدین آزادی کو نظرانداز کرنے پر سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے احتجاج کیا۔ اُنھوں نے آج سالار جنگ میوزیم پہونچ کر حکام کو یادداشت حوالہ کی جس میں امرت مہا اُتسو تقاریب کے تحت ہندو مہا سبھا کے قائد ساورکر کی تصویر شامل کرنے پر سخت اعتراض کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک کی آزادی میں اہم رول ادا کرنے والے حقیقی مجاہدین آزادی کے بجائے ساورکر کی تصویر کو شامل کرنا مجاہدین آزادی کی توہین ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ساورکر کون ہیں اور ملک کی آزادی سے کیا تعلق ہے؟ وہ تو صرف آر ایس ایس کے کارکن تھے اور مجاہدین آزادی کے خلاف کام کیا تھا۔ ہنمنت راؤ نے کہاکہ امرت مہا اُتسو میں پنڈت جواہر لال نہرو کی تصویر شامل نہیں کی گئی تھی اور یوتھ کانگریس کے احتجاج کے بعد غیر اہم طریقہ سے پنڈت نہرو کی تصویر کو شامل کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ جدید ہندوستان کے معمار پنڈت جواہر لال نہرو کو نظرانداز کرنا افسوسناک ہے۔ اُنھوں نے حقیقی مجاہدین آزادی کے بجائے ساورکر کی تصویر شامل کرنے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کے دباؤ کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور پنڈت جواہر لال نہرو کو نظرانداز کرنا سازش کا حصہ ہے۔ اُنھوں نے سردار پٹیل، مہاتما گاندھی اور دیگر مجاہدین آزادی کی تصاویر شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہنمنت راؤ نے کہاکہ بی جے پی حکومت ملک کی تاریخ کو بدلنے کی کوشش کررہی ہے۔ حقیقی مجاہدین آزادی اور ملک کے لئے قربانیاں دینے والے افراد کی جگہ ساورکر اور ہیڈگیوار جیسے قائدین کو مجاہدین آزادی کے طور پر عوام میں پیش کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سالار جنگ میوزیم کی تصویری نمائش میں بھگت سنگھ اور دیگر مجاہدین آزادی کی تصاویر شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اُن کے ہمراہ کانگریس قائدین ایس سریکانت گوڑ، ایس پی کرانتی کمار، پربھاکر، رام موہن راؤ، نوین کمار، سائی کمار اور دوسرے موجود تھے۔ ر