سالانہ فیس کی ادائیگی روکنے سے سپریم کورٹ کا انکار

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روزگزشتہ سال کے کووڈ۔19 لاک ڈاؤن کے بعد غیر امدادی پرائیوٹ اسکولوں کے طلباء سے سالانہ اورڈیولپمنٹ فیس وصول کرنے کی اجازت دینے کے دہلی ہائیکورٹ کے حکم پر روک لگانے سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس اے ایم کھانویلکر ، جسٹس دنیش مہیشوری اور جسٹس انیرودھ بوس کی بنچ نے ہائیکورٹ کے حکم پر روک لگانے کی دہلی حکومت کی دلیل پر سماعت کرتے ہوئے کہاکہ ہم آپ کو اسٹے دینے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے عرضی گزاروں کو ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کے سامنے بھی اپنی شکایات اُٹھانے کی ہدایت دی ، جو ابھی بھی گذشتہ ماہ کے حکم کی جانچ کر رہی ہے ، جسے سنگل جج بنچ کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔دہلی ہائیکورٹ کی ایک بنچ میں 7 جون کو جسٹس ریکھا پلی اور جسٹس امت بنسل نے واضح کیا تھا کہ عدالت سنگل جج بنچ کے 31مئی کے حکم پر روک روک لگانے کی خواہشمند نہیں ہے اور وہ صرف دیگر فریقوں سے جواب طلب کرے گی۔واضح رہے کہ بنچ نے 450 پرائیوٹ اسکولوں کی نمائندگی کرنے والی ایکشن کمیٹی سے کہا کہ وہ سنگل جج کے حکم کے خلاف اے اے پی حکومت اور طلباء کی عرضیوں پر اپنا موقف واضح کرے ، جسے عام آدمی پارٹی حکومت ، طلباء اور ایک این جی او کی اپیل پر پہلے چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس جینت ناتھ نے 31 مئی کے فیصلے میں غیر امدادی پرائیوٹ اسکولوں کو بچوں سے سالانہ اور ڈیولپمنٹ فیس وصول کرنے کی اجازت دے دی تھی ۔