تحدیدات کے احکامات نظرانداز، حکومت سے وضاحت طلبی، مفاد عامہ کی درخواست پر آج دوبارہ سماعت
حیدرآباد۔/29 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے سالِ نو کی تقاریب پر تحدیدات سے متعلق احکامات کو نظرانداز کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے سالِ نو کے موقع پر تقاریب کی اجازت اور شراب کی دکانات کو رات دیر گئے تک کھلا رکھنے کے احکامات پر حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ کے احکامات کو نظرانداز کرنے کی شکایت کرتے ہوئے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی۔ حکومت کی جانب سے سالِ نو کی تقاریب کی اجازت کے علاوہ بار اور شراب کی دکانات کو دیر تک کھلا رکھنے کی اجازت سے متعلق احکامات سے عدالت کو واقف کرایا گیا۔ درخواست گذار نے کہا کہ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ کورونا وائرس وباء کے پیش نظر دیگر ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں بھی تحدیدات عائد کی جائیں لیکن حکومت نے عدالتی احکامات کو فراموش کردیا ہے۔ درخواست گذار کے وکیل نے بتایا کہ حکومت نے پینڈمک، اپیڈمک، ڈیزاسٹر مینجمنٹ قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ حکومت نے من مانی طور پر نیو ایئر تقاریب کی اجازت دیتے ہوئے اومی کرون کیسس پر قابو پانے کی فکر نہیں کی ہے۔ تلنگانہ میں ابھی تک 62 اومی کرون کیسس منظر عام پر آئے ہیں۔ درخواست گذار نے نیو ایئر تقاریب اور شراب کی دکانات اور بارس کو رات دیر گئے تک کھلا رکھنے کی اجازت کو واپس لینے کی اپیل کی۔ اس سلسلہ میں حکومت کو ہدایت دینے عدالت سے درخواست کی گئی۔ عدالت نے حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے اس معاملہ کی سماعت جمعرات کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ چیف سکریٹری سومیش کمار نے کل احکامات جاری کرتے ہوئے بارس میں رات ایک بجے تک شراب سرو کرنے اور شراب کی دکانات کو نیو ایئر کے موقع پر 12 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی ہے۔ر
رہائشی علاقوں میں پبس سے متعلق تفصیلات پیش کرنے حکومت کو ہدایت
ہائی کورٹ کی حکومت پر برہمی، آج دوبارہ سماعت کا فیصلہ
حیدرآباد۔/29 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے رہائشی علاقوں میں پبس کے قیام کے خلاف دائر کردہ درخواست کی سماعت کی ہے۔ درخواست گذاروں نے شکایت کی ہے کہ رہائشی مکانات کے درمیان پبس کے قیام سے ٹریفک کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ صوتی آلودگی کے نتیجہ میں مکینوں کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ عدالت نے حکومت سے سوال کیا کہ رہائشی علاقوں میں قائم کئے گئے پبس کے قریب ٹریفک کے انتظامات اور صوتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ پبس سے باہر آنے والوں کے خلاف ڈرنک اینڈ ڈرائیو ٹسٹ کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔ عدالت نے پبس سے باہر نکل کر مہ نوشوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے خلاف حکومت کی جانب سے کارروائی کے بارے میں بھی سوال کیا۔ عدالت نے کہا کہ آلودگی پر قابو پانے اور ٹریفک مینجمنٹ کے سلسلہ میں ایکشن پلان سے عدالت کو واقف کرایا جائے۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے تفصیلات پر مبنی ایکشن پلان پیش کرنے کیلئے عدالت سے وقت مانگا ہے۔ ہائی کورٹ نے واضح کردیا کہ اس مسئلہ پر کوئی مہلت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے کہا کہ جمعرات کو سماعت کے موقع پر حکومت کی جانب سے مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے رہائشی علاقوں میں موجود پبس سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کیلئے کارروائی کرنے عدالت سے وقت دینے کی درخواست کی ۔ جس پر عدالت نے کہا کہ سالِ نو کی تقاریب سے قبل حکومت کو تفصیلات داخل کرنی چاہیئے۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت جمعرات کو ہوگی۔ واضح رہے کہ جوبلی ہلز ریسیڈنشیل اسوسی ایشن کی جانب سے مفاد عامہ کی درخواست داخل کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں پبس کی اجازت کے نتیجہ میں مکینوں کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ پہلی سماعت کے موقع پر بھی ہائی کورٹ نے رہائشی علاقوں میں پبس کے قیام کی مخالفت کی۔ ر