دلت ۔ مسلم اتحاد کے نام ناپاک سازش کا اعادہ کرنے کی تیاری، ترنمول کانگریس کیخلاف فرقہ واریت کو ترجیح
حیدرآباد۔یکم اگسٹ (سیا ست نیوز) ملک بھر میں فسطائیت اور فرقہ واریت کے زہر کے باوجود ہندوتوا کا مقابلہ کرنے والی ممتا بنرجی کے لئے 2021کے اسمبلی انتخابات میں خطرات منڈلانے لگے ہیں کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے فرقہ واریت کو ہوا دینے کیلئے اپنے تمام حربے اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی درپردہ حلیف جماعت بنگال کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے ووٹوں کو منقسم کرنے کی حکمت عملی اختیار کرے گی۔ مہاراشٹر‘ اترپردیش ‘ بہار کے بعد اب بنگال میں ووٹ کٹوا کا کردار ادا کرنے کے لئے پہنچنے کی تیاری کرنے والی سیاسی جماعت کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ان کی جماعت اب بنگال میں انتخابات میں حصہ لے گی ۔ 2019 عام انتخابات سے قبل سے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظریں بنگال پر جمی ہوئی ہیں اور بی جے پی سربراہ کسی بھی صورت میں بنگال میں ان کا مقابلہ کرنے والی ممتا بنرجی کو شکست سے دوچار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور اب کہا جا رہاہے کہ مہاراشٹر میں عام انتخابات 2019کے دوران دلت ۔مسلم اتحاد کے نام پر کی گئی ناپاک سازش کا بنگال میں اعادہ کیا جائے گا اور اسی طرح یہ سلسلہ مہاراشٹر میں ہونے والے انتخابات کے دوران بھی جاری رہے گا۔ پارٹی ترجمان نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور راست نریندر مودی کا مقابلہ کرنے والی ممتا بنرجی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دوستی کا ہاتھ بڑھائیں یا مقابلہ کے لئے تیار رہیں۔ بنگال کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ ممتا بنرجی کے لئے جماعت ہر دو صورتوں میں نقصان کا سودا ہے اور سانپ کے منہ میں نیولہ کے مترادف ثابت ہوگی کیونکہ اسے نہ نگلا جاسکتا ہے اور نہ ہی اگلا جا سکے گا۔ جماعت کی جانب سے ممتا بنرجی کی جانب سے بڑھائے گئے دوستی کے ہاتھ سے بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ جماعت سیکولر قوت کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہی ہے کہ دوستی نہ ہونے پر مقابلہ ہوگا۔ جماعت سے ترنمول کانگریس کی دوستی ترنمول کانگریس سے اکثریتی طبقہ کے ووٹ کو دور کردے گی اور ترنمول کانگریس دوستی نہیں کرتی ہے تو جماعت کے امیدوار مسلم ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ بنگال میں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو قدم جمانے کیلئے کئی ایک دشواریوں کا سامنا ہے ان میں سب سے اہم ترنمول کانگریس ہے جس سے نمٹنے کیلئے شاہ لابی نے حکمت عملی تیار کرلی ہے اور بنگال میں مہاراشٹر کے تجربہ کو دہرایا جائے گا جہاں دلت۔مسلم اتحاد کے نام پر ووٹ کی تقسیم کے نتیجہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 12 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ مہاراشٹر‘ بہار اور اتر پردیش میں مسلمانوں کی پسماندگی اور مسلم علاقو ںکو نظر انداز کئے جانے کے الزامات کے ساتھ ان ریاستوں کے مسلمانو ںکو ورغلانے والی جماعت کے اپنے مقام پر جو صورتحال ہے اس سے ہر کوئی واقف ہے اور اب شہری استفسار کر رہے ہیں کہ اندرون چند ہوم شروع ہونے والے میٹرو ریل پراجکٹ کا کیا ہوا ! اس کے علاوہ بہار میں جہاں انتخابات میں حصہ لینے کی غرض سے کی جانے والی تیاریوں کے تحت جماعت نے سیلاب کے متاثرین کے لئے بازآبادکاری کے کاموں کا اعلان کیا تھا اور اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ جماعت بہار کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لئے خدمات انجام دے گی اور اگر انہیں انتخابات میں ناکامی بھی ہوتی ہے تو ایسی صورت میں ان کی جماعت اور قائدین بہار میں ترقیاتی اور فلاحی کاموں کا سلسلہ جاری رکھیں گے لیکن بہار کے پسماندہ علاقے کئی دنوں سے سیلاب سے متاثر ہیں اور اب تک کئی افراد کی سیلاب نے جان لے لی ہے لیکن جماعت کی جانب سے کسی بھی طرح کے بازآبادکاری کے کاموں کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی قائدین نے دورہ کیا ہے۔ بنگال اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرنے والوں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے جہاں کہیں انتخابات میں حصہ لیا وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار حاصل ہوا خواہ وہ مہارشٹر ہو بہار ہو یا پھر اتر پردیش تینوں ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے کامیابی حاصل کرلی ہے اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی کا نشانہ بنگال ہے جہاں کامیابی کی صورت میں بی جے پی ناقابل تسخیر قوت بن جائے گی۔