تلنگانہ کی معاشی صورتحال میں بہتری ، 6 ضمانتوں پر عمل کو ترجیح، انفرادی آمدنی میں اضافہ، بھٹی وکرما رکا نے اسمبلی میں بجٹ پیش کیا
پری پرائمری تا انٹرناشتہ کی سربراہی ، گورنمنٹ جونیئر کالجس میں دوپہر کے کھانے کی اسکیم ، دو لاکھ نئے پنشن کی منظوری، سرکاری ملازمین اور پنشنرس کیلئے ہیلت سیکوریٹی اسکیم، پالی ٹیکنک امیدواروں کو ماہانہ 2000 اسکالرشپ، تلنگانہ پبلک اسکول کا قیام
حیدرآباد ۔20 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مالیاتی سال 2026-27 کا 320234 کروڑ پر مبنی بجٹ قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں پیش کردیا۔ بجٹ میں ریونیو اخراجات 234406 کروڑ اور سرمایہ جاتی مصارف 47267 کروڑ متعین کئے گئے ہیں۔ بجٹ میں حکومت کی 6 ضمانتوں پر عمل آوری کے علاوہ بعض نئی اسکیمات کا اعلان کیا گیا۔ ترقی اور فلاح و بہبود پر مبنی بجٹ میں ریاست کی معاشی صورتحال میں بہتری اور عوام کی فی کس آمدنی میں اضافہ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے قانون ساز اسمبلی جبکہ وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی نے قانون ساز کونسل میں بجٹ پیش کیا۔ بجٹ میں حکومت کی 6 ضمانتوں پر عمل آوری کے لئے 50713 کروڑ مختص کئے گئے ۔ حکومت نے 2 جون کو تلنگانہ یوم تاسیس کے موقع پر اندراماں فیملی لائیف انشورنس اسکیم پر عمل آوری کا اعلان کیا جس کے تحت ریاست کے ایک کروڑ 15 لاکھ خاندانوں کو 5 لاکھ روپئے کا انشورنس فراہم کیا جائے گا ۔ حکومت نے پری پرائمری سے انٹرمیڈیٹ تک طلبہ کیلئے ناشتہ اسکیم متعارف کرنے کا اعلان کیا جبکہ گورنمنٹ جونیئر کالجس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کیلئے مڈ ڈے میل اسکیم کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔ حکومت نے شہری ترقی ، آبپاشی ، زرعی شعبہ ، انفراسٹرکچر ، صحت اور تعلیم جیسے شعبہ جات کو بجٹ میں ترجیح دی ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے قومی شہری ترقی اور انفرادی آمدنی کے معاملہ میں تلنگانہ کے بہتر مظاہرہ کا دعویٰ کیا۔ مالیاتی سال 2025-26 کے دوران ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار 1782198 کروڑ درج کی گئی تھی جس میں 10.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ حکومت نے جی ڈی پی کی شرح میں 10 فیصد اضافہ کے ساتھ 35713886 کروڑ ہونے کا دعویٰ کیا۔ تلنگانہ کی شرح ترقی قومی شرح ترقی سے 2.7 فیصد زائد ہیں۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ریاست میں انفرادی آمدنی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ 2025-26 کے دوران ریاست کی فی کس آمدنی 418931 کروڑ تھی جو کہ گزشتہ سال کے مقابلہ 10.2 فیصد زیادہ ہے۔ قومی سطح پر فی کس آمدنی 219575 روپئے درج کی گئی ۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ کمزور مالی موقف کے باوجود حکومت ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کے بجٹ میں کوئی کمی نہیں کرے گی۔ ریاست کو تین علحدہ زونس میں تقسیم کرتے ہوئے جامع ترقیاتی منصوبہ کے علاوہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی تنظیم جدید کا حوالہ دیا گیا۔ پولیس کمشنریٹ کی تنظیم جدید کے علاوہ بھارت فیوچر سٹی کے قیام کا بجٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں میں تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ 67763 سرکاری جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے گئے ۔ حکومت نے سیول سرویس امتحانات میں طلہ کی حوصلہ افزائی کیلئے راجیو سیولس ابھئے ہستم اسکیم کے تحت ہر امیدوار کو ایک لاکھ روپئے کی امداد دی گئی ۔ سیول سرویسز کے انٹرویو میں 51 طلبہ منتخب ہوئے ہیں جنہیں مزید ایک لاکھ روپئے کی امداد دی گئی اور 20 امیدوار یونین پبلک سرویس کمیشن کے سیول سرویسز میں منتقل ہوئے ہیں۔ 2 جون سے اندراماں فیملی لائیف انشورنس اسکیم پر عمل کیا جائے گا جس کے تحت ایک کروڑ 15 لاکھ خاندانوں کو پانچ لاکھ روپئے کا انشورنس فراہم کیا جائے گا ۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ عریب اور متوسط طبقات کی معاشی ترقی کیلئے یہ اسکیم متعارف کی گئی ہے۔ مہا لکشمی اسکیم کے تحت آر ٹی سی بسوں میں خواتین نے 269 کروڑ مفت سفر کرتے ہوئے 9222 کروڑ کی بجٹ کی ہے۔ 500 روپئے میں گیس سلینڈر کی سربراہی کے ذریعہ 42 لاکھ 90 ہزار خاندانو ںکو فائدہ پہنچا اور 752 کروڑ کی بچت ہوئی ۔ 200 یونٹ مفت برقی سربراہی کے تحت 53 لاکھ 9 ہزار غریب خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ حکومت نے چیوتا اسکیم کے تحت دو لاکھ نئے پنشن منظور کرنے کا اعلان کیا ۔ سیفل ہیلپ گروپ سے وابستہ خواتین کو حکومت بلا سودی قرض فراہم کر رہی ہے ۔ عوامی نظام تقسیم کے تحت ریاست میں استفادہ کنندگان کی تعداد 3 کروڑ 78 لاکھ ہے ۔ حکومت نے 2 برسوں میں 15 لاکھ 12 ہزار نئے راشن کارڈس جاری کئے اور ریاست میں 19 لاکھ 44 ہزار افراد کو راشن کارڈس کے دائرہ میں شامل کیا گیا ۔ ریاست میں راشن کارڈس کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 5 لاکھ 7 ہزار 879 ہے ۔ سیول سپلائیز ڈپارٹمنٹ کے لئے بجٹ میں 7366 کروڑ مختص کئے گئے۔ حکومت نے برقی شعبہ میں اصلاحات کے ذریعہ کارکردگی کو بہتر بنانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ ریاست میں برقی پیداوار کی صلاحیت 23187 میگا واٹ ہے۔ زرعی اور دیگر شعبہ جات کو موثر برقی کی سربراہی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ بجٹ میں برقی شعبہ کیلئے 21285 کروڑ مختص کئے گئے۔ ینگ انڈیا اٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کے ذریعہ معیاری تعلیم کی فراہمی کا انتظام کیا گیا ہے ۔ ہر اسمبلی حلقہ میں ایک اسکول قائم کیا جائے گا۔ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ، اقلیت اور او سی طلبہ کیلئے 105 ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اسکولس تعمیر کئے جارہے ہیں اور 44 مقامات پر تعمیری کام جاری ہیں۔ حکومت نے تعلیمی سال 2026-27 سے پری پرائمری تا انٹرمیڈیٹ بریک فاسٹ اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ اسکیم کے تحت ہفتہ میں تین دن طلبہ کو دودھ سربراہ کیا جائے گا جبکہ باقی تین دن راگی سربراہ کی جائے گی۔ حکومت نے گورنمنٹ جونیئر کالجس کے طلبہ کیلئے دوپہر کے کھانے کی اسکیم مڈ ڈے میل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ معذور طلبہ میں وہیکلس کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا ۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کیلئے حکومت نے اڈوانسڈ ٹکنالوجی سنٹرس کے امیدواروں کو ماہانہ 2000 روپئے اسکالرشپ کا اعلان کیا ہے۔ صحت کے شعبہ میں سرکاری سطح پر خدمات کو بہتر بنانے میں 9 نئے گورنمنٹ میڈیکل کالجس کا آغاز کیا گیا۔ ایل بی نگر ، صنعت نگر اور الوال میں نمس کی تعمیر عمل میں لائی جار ہی ہے ۔ میڈیکل اینڈ ہیلت ڈپارٹمنٹ کیلئے حکومت نے بجٹ میں 13679 کروڑ مختص کئے ۔ بھٹی وکرمارکا نے سرکاری ملازمین اور پنسنشرس کیلئے کیاش لیس ہیلت سیکوریٹی اسکیم کا اعلان کیا ۔ اسکیم کے تحت ملازمین اور پنشنرس اور ان کے افراد خاندان کا احاطہ کیا جائے گا۔ راجیو آروگیہ شری ٹرسٹ کے تحت اسپیک پر عمل آوری کی جائے گی اور ملازمین اور پنشنرس کو ڈیجٹل ہیلت کارڈ جاری کئے جائیں گے ۔ اسکیم سے تقریباً 23.51 لاکھ سرکاری ملازمین ، پنشنرس اور ان کے افراد خاندان کو فائدہ ہوگا۔ حکومت نے آنگن واڑی ٹیچرس اور ہیلپٹر کے لئے ریٹائرمنٹ بینیفٹ کے تحت علی الترتیب دو لاکھ اور ایک لاکھ روپئے کا اعلان کیا۔حکومت نے منتخب سرکاری اسکولوں کو پبلک اسکولس میں اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ عصری انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل سہولتوں کے ساتھ پبلک اسکولس میں طلبہ کیلئے مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت رہے گی۔ پبلک اسکولس میں پری پرائمری تا 12 ویں جماعت تک 1500 طلبہ کیلئے تعلیم کا انتظام رہے گا۔ بجٹ میں پبلک اسکولس کیلئے 500 کروڑ مختص کئے گئے ۔1