سامراجی طاقتوں کی غنڈہ گردی

   

پربھات پٹنائک
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ فی الوقت جو کچھ کررہے ہیں وہ سامراجیت پر مبنی غنڈہ گردی کے سواء کچھ نہیں۔ ٹرمپ جس طرح رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں سابق امریکی صدور نے بھی اسی طرح کا رویہ اپنایا تھا لیکن ان صدور کا انداز بالکل جداگانہ تھا۔ ہم یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ٹرمپ اور امریکہ کے سابق صدور کی پالیسیوں اور فیصلوں و اقدامات کے درمیان صرف یہ فرق ہیکہ پہلے والے صدور غنڈہ گردی پر مبنی اقدامات و فیصلوں کو مہذب زبان اور لب و لہجہ کی ملمع کاری میں چھپاتے تھے۔ بہرحال جب سویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا اور اس کی عمارت دھڑام سے گر کر زمین دوز ہوئی تب آزاد خیال اور خوش فہمی میں مبتلا مصنفین نے ایک ایسے دور کی آمدکا اعلان کیا جس کی پہچان جمہوریت و استحکام کی عالمی فتح تھی۔ ان مصنفین کے خیال میں سوشلسٹ چیلنج غیرضروری اور نقصاندہ تھا۔ ان کا ایقان تھا کہ سرمایہ دارانہ یا سامراجی نظام جس نے پہلے ہی اپنی نوآبادیات کو سیاسی آزادی عطا کردی تھی اور جس کے ہم اقدامات میں بالغ رائے دہی اور بہبودی ریاست کے اقدامات شامل تھے۔ امریکی سامراج نے جس طرح ایک دوسرے ملک کے باقاعدہ منتخب صدر ہم بات کررہے ہیں ونیزویلا کے صدر نکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ دونوں کو امریکہ نے فوجی کارروائی کے ذریعہ ان کی اپنی قیامگاہ سے اس وقت اغوا کیا جب وہ محوخواب تھے حد تو یہ ہیکہ ایک ملک کے منتخبہ صدر کو ہتھکڑیاں پہنا کر امریکہ منتقل کیا گیا تاکہ ان پر من گھڑت الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے حالانکہ امریکہ نے ونیزویلا کے صدر پر جو من گھڑت الزامات عائد کئے کبھی بھی ان الزامات کو سچ ثابت کرنے کیلئے وہ شواہد نہیں پیش کرسکا اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جب چاہے جسے چاہے اٹھا کر امریکہ پہنچا سکتے ہیں اور اس کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ چلا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اب یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ ٹرمپ نے واضح طور پر کہہ دیا ہیکہ وہ ونیزویلا میں تیل کی نکاسی کیلئے اپنی مرضی کے مطابق امریکی کمپنیوں کو ونیزویلا روانہ کریں گے حالانکہ ٹرمپ اور ان کے انتظامیہ نے ونیزویلا میں جو کچھ کیا وہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور ہم اسے ایک ایسی ناقابل یقین دیدہ دلیری کہہ سکتے ہیں جو عالمی طرزعمل کے تمام قانونی اور اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے اور سامراجیت کے ان ’’ٹولیوں کے مرحلہ‘‘ کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ سامراجیت پر مبنی غنڈہ گردی کے ذریعہ امریکہ نے کیسے حکومتوں اور حکمرانوں کو زوال سے دوچار کیا۔ کئی حکمرانوں کی زندگیوں کا خاتمہ کردیا اور یہ سب کچھ اس نے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے کیا ہے۔ ہم یہاں اس کی چند مثالیں پیش کررہے ہیں۔ عراقی صدر صدام حسین کی حکومت کو امریکہ اور اس کے حلیف برطانیہ نے نہ صرف جھوٹ کی بنیاد پر زوال سے دوچار کیا بلکہ صدام حسین کی زندگی کا خاتمہ بھی کردیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا صدام حسین کی حکومت کا زبردستی سے خاتمہ کیا گیا یعنی صدام کی حکومت کا خاتمہ کرنا اور پھر مکمل طور پر جھوٹے و بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر انہیں پھانسی دینا اس طرح لیبیا کے معمر قذافی کا بے رحمانہ قتل کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ شام پر قبضہ اور اس کی تباہی بھی ہمارے سامنے ہے۔ اس کے بعد فلسطینیوں کا قتل عام ان کی نسل کشی ان کا قتل عام ان کی نسلی تطہیر کے ذریعہ بھی عالمی قوانین انسانی اقدار اور انسانیت کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر فلسطینیوں کا قصور کیا ہے؟ فلسطینیوں کا واحد قصور یہ ہیکہ وہ اپنے گھروں دیہاتوں اور شہروں سے بیدخل ہونا نہیں چاہتے ہیں جبکہ امریکہ کی حمایت کے بل بوتے پر اسرائیل فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے ان کے گاؤں اور شہروں سے بیدخل کرکے یہودیوں کو آباد کرنا چاہتا ہے۔ فلسطینیوں کے قتل عام کا مقصد غزہ کو امریکی کالونی میں تبدیل کرکے رکھ دینا ہے تاکہ اسرائیل کیلئے کوئی خطرہ باقی نہ رہ سکے۔ امریکہ اور اسرائیل یہی چاہتے ہیں کہ غزہ کو امریکی کالونی میں تبدیل کردیں۔ ٹرمپ کے مقرر کردہ وائسرائے (گورنر) کے ذریعہ وہاں اپنی حکومت چلائی جائے۔ فلسطینیوں پر اپنی مرضی مسلط کی جائے اور غزہ والوں کو ان کے اپنے مقصد سے ہٹا کر عیش و عشرت میں تبدیل کردیا جائے اور غزہ کو ایسا علاقہ بنادیا جایء جہاں عیش و عشرت کا ہر سامان موجود ہو۔ یہ سب کے سب کیا ہیں؟ اصل میں سامراجیت کی غنڈہ گردی یا سامراجیت کی ٹولیوں کی کارستانیوں اور سامراجی غنڈہ گردی کے مرحلہ کے پھیلتے ہوئے واقعات ہیں۔ وہ ببانگ دہل اپنے ناپاک ارادوں اور عزائم کا اعلان کرتے ہیں اگر آپ سطور بالا میں دی گئی مثالوں پر غور کریں تو بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ صرف امریکہ ہی سامراجی طاقت نہیں ہے بلکہ واپنی دیگر سامراجی طاقتوں (حلیف ملکوں) کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کی نسل کشی جیسے اقدامات کرتا ہے یہ ایسے ملک میں جو اپنی فراخدلانہ و آزادانہ اصولوں کی تشہیر کرتے نہیں تھکے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان بھی سامراجی غنڈہ گردی پر خاموش ہے۔ ونیزویلا کے صدر کے اغواء پر ہندوستان نے ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔