ساورکر کو بھارت رتن دینے کی تجویز پر پریانک کھرگے کی آر ایس ایس پر تنقید

   

نئی دہلی، 10 فروری (یو این آئی) کانگریس لیڈر اور کرناٹک کے وزیر پریانک کھرگے نے منگل کے روز ونائک دامودر ساورکر کو ’بھارت رتن‘ دینے کے مطالبے کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے دلیل دی کہ ان کی نظر میں جس شخص نے ’ہندوستان کے خلاف کام کیا‘ وہ ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز کا حقدار نہیں ہے ۔کھرگے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کا استعمال کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ انگریزوں سے بار بار معافی مانگنے والے ساورکر کو قومی سطح پر کیوں اعزاز دیا جانا چاہیے ؟وزیر موصوف نے انڈمان اور نِکوبار جزائر کی سیلولر جیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کئی دہائیوں تک ہزاروں مجاہدینِ آزادی وہاں قید رہے ، لیکن صرف چند افراد نے رحم کی درخواستیں دائر کیں اور ساورکر نے سب سے زیادہ درخواستیں دی تھیں۔ کھرگے نے 1929 سے 1947 کے درمیان برطانوی حکومت سے ساورکر کو ملنے والی ماہانہ پنشن پر بھی سوال اٹھائے اور الزام لگایا کہ انہوں نے اس رقم میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے آر ایس ایس سے مطالبہ کیا کہ وہ برطانوی راج کے خلاف مسٹر ساورکر کی ٹھوس جدوجہد کے دستاویزی ثبوت پیش کرے ۔ اپنی پوسٹ میں کانگریس لیڈر نے ‘بھارت چھوڑو تحریک’ کی مخالفت کرنے پر بھی ساورکر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب نیتا جی سبھاش چندر بوس ‘آزاد ہند فوج’ کو منظم کر رہے تھے ، اس وقت ساورکر ہندوستانیوں کو انگریزی فوج میں بھرتی ہونے کی ترغیب دے رہے تھے۔ کھرگے نے برطانوی دور میں مسلم لیگ کے ساتھ حکومت بنانے کے ہندو مہاسبھا کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا۔
انہوں نے نظریاتی اختلافات کو بھی اجاگر کیا، جن میں دو قومی نظریہ پر ساورکر کے خیالات، گائے کی پوجا اور ملک کو ‘مادرِ وطن’ کے بجائے ‘پدرِ وطن’ قرار دینا شامل تھا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں بھارت رتن دینا ایک ‘ماسٹر اسٹروک’ ہوگا۔
قابلِ ذکر ہے کہ کانگریس لیڈر کا یہ تبصرہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کے ایک دن بعد آیا ہے ، جس میں انہوں نے ایک لیکچر سیریز کے دوران کہا تھا کہ مسٹرساورکر کو اعزاز دینے سے خود ’بھارت رتن‘کا وقار بڑھے گا۔ بھاگوت نے واضح کیا کہ وہ اس ایوارڈ کا فیصلہ کرنے والی کسی کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں، تاہم موقع ملنے پر اس معاملے کو اٹھائیں گے ۔