نئی دہلی ۔ /13جنوری :(ایجنسیز)سپریم کورٹ نے منگل کے روز عوامی مقامات سے ساورکر کی تصاویر ہٹانے سے متعلق مفادِ عامہ کی عرضی پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے اسے خارج کر دیا۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس نوعیت کی درخواستیں عدالتی وقت کا ضیاع ہیں اور انہیں غیر سنجیدہ قرار دیا۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں اس وقت زیرِ غور آیا جب درخواست گزار بی بالامورگن، جو ایک ریٹائرڈ آئی آر ایس افسر ہیں، نے پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال اور دیگر سرکاری مقامات سے ساورکر کی تصاویر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ بنچ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اس طرح کے معاملات میں الجھ کر قیمتی وقت ضائع نہیں کرے گی۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بنچ، جس میں جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی شامل تھے، نے درخواست گزار کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا کہ اس قسم کی عرضیاں جرمانے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ساورکر کیس میں عدالتی طریقہ کار پر اعتراض
پونے ، 13 جنوری (یو این آئی) ونایک دامودر ساورکر سے متعلق مبینہ بیانات کے معاملے میں لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتکِ عزت مقدمے میں عدالتی طریقئہ کار پر سنجیدہ اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ اعتراض راہل گاندھی کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ ملند دتاتریہ پاور نے پونے کی ایم پی/ایم ایل اے فرسٹ کلاس خصوصی عدالت میں داخل کیا۔دفاعی فریق کا کہنا ہے کہ مدعی کے بیانِ حلفی کی ریکارڈنگ کے دوران سنگین قانونی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ مدعی ستیاکی ساورکر نے اپنا چیف ایگزامینیشن مکمل کر لیا ہے ، تاہم دفاع کے مطابق گواہی کے دوران اختیار کیا گیا عدالتی طریقہ قانون کے برخلاف ہے ۔