نئی دہلی، 20 جنوری (یواین آئی) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے کوچی زونل آفس نے کیرالا، تمل ناڈو اور کرناٹک میں 21 مقامات پر تلاشی کارروائیاں کیں۔ یہ چھاپے سبریمالا مندر سے متعلق سونے اور دیگر اثاثوں کے مبینہ غبن سے جڑے ہیں۔ تلاشی کا مقصد جرائم کی آمدنی کا سراغ لگانا، فائدہ اٹھانے والوں کی شناخت کرنا، مجرمانہ دستاویزات اور ڈیجیٹل ثبوت ضبط کرنا اور منی لانڈرنگ کے پورے معاملے کا پتہ لگانا ہے ۔ یہ تحقیقات کیرالا کرائم برانچ کی جانب سے درج کئی ایف آئی آرز سے شروع ہوئی ہیں۔ ان ایف آئی آرز میں ایک گہری جڑوں والی مجرمانہ سازش کا انکشاف ہوا ہے جس میں تراونکور دیوسوم بورڈ کے اہلکار، نجی افراد، دلال اور جیولرز شامل ہیں۔ عدالت کے حکم کے بعد ای ڈی نے یہ کیس منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت درج کیا۔ ای ڈی نے کہاکہ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ سونے سے مزیّن مقدس نوادرات کو سرکاری ریکارڈ میں جان بوجھ کر ’تانبے کی پلیٹیں‘ ظاہر کیا گیا اور 2019 سے 2025 کے درمیان غیر قانونی طور پر مندر کے احاطے سے نکالا گیا۔