حیدرآباد ، یکم ستمبر (یو این آئی) تلنگانہ کے گورنر ای ایس ایل نرسمہن کی جگہ اب تمل سائی سوندرا راجن کو نیا گورنر مقرر کیا گیا ہے ۔نرسمہن نے گورنر کے طورپر اپنی معیاد کے دوران کئی اہم کام کئے اورتلنگانہ واے پی کے مسائل کے حل کیلئے پُل کا کام کیا۔یہ ایک محض اتفاق ہے کہ تلنگانہ کی نئی گورنر کا تعلق بھی تمل ناڈو سے ہے جبکہ نرسمہن بھی اسی ریاست سے تعلق رکھتے ہیں جن کو متحدہ آندھراپردیش اور پھر حال تک دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور اے پی کے مشترکہ گورنر کے طور پرفرائض انجام دینے کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ای ایس ایل نرسمہن نے اس وقت متحدہ آندھراپردیش کے گورنر کی اہم ذمہ داری سنبھالی جب تلنگانہ تحریک عروج پر تھی۔متحدہ آندھراپردیش کی تقسیم کے ذریعہ تلنگانہ کور یاست کادرجہ دلانے کیلئے ٹی آرایس سربراہ کے چندرشیکھرراو کی جانب سے کی گئی بھوک ہڑتال پر اس وقت کی مرکزی حکومت نے تلنگانہ کوریاست کادرجہ دینے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں اس اعلان سے دستبرداری اختیار کی گئی تھی۔یو پی اے کے دور میں 29دسمبر2009کو اس وقت کے چھتیس گڑھ کے گورنر کے طورپر فرائض انجام دینے والے ای ایس ایل نرسمہن کو تلنگانہ کے گورنر کی ذمہ داری دی گئی تھی۔2014میں ریاست کی تقسیم کے بعد دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور اے پی کے درمیان مختلف مسائل کی یکسوئی کے ساتھ ساتھ دونوں ریاستوں میں اثاثہ جات کی تقسیم میں بھی گورنر کے طورپر نرسمہن نے اہم رول ادا کیا ہے ۔جب اے پی کے وزیراعلی چندرابابونائیڈو تھے تو اس وقت دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور اے پی کے درمیان تنازعات اور مسائل کی یکسوئی میں نرسمہن نے اہم کردار ادا کیا تھاجس کیلئے انہوں نے دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلی کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔بعد ازاں جب جگن موہن ریڈی وزیراعلی بنے تو انہوں نے دونوں ریاستوں کے درمیان مسائل کے حل کے لئے پیشرفت کی تھی۔انہیں آئی پی ایس اے پی کیڈر میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔محکمہ پولیس کے تعلق سے وہ کافی تجربہ رکھتے ہیں۔گورنر نے اپنی کوششوں سے راج بھون کے قریب واقع اسکول کو رول ماڈل میں تبدیل کیا۔تلنگانہ کی ترقی کے سلسلہ میں وزیراعلی کے چندرشیکھرراو گورنر نرسمہن سے مشورے اور رائے لیتے رہے ہیں۔