سب سے بڑی نحوست صبح کے وقت کا سونا ہے

   


شاہی مسجد باغ عامہ میں مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، 2 ستمبر (پریس نوٹ) اللہ رب العزت نے انسانوں کو جو نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سب سے عظیم نعمت ایمان کی نعمت ہے۔ آنکھ، ناک، کان اور جسم بھی نعمت ہے۔ ان نعمتوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔ اسی طرح ایمان کو کمزور کرنے والوں چیزوں سے اپنے آپ کو بچانا ضروری ہے۔ ایمان کی نعت جوانی، بوڈھاپے اور دنیا و آخرت میں کام آئے گی۔ آج ملت اسلامیہ کا سب سے بڑا المیہ ایمان میں بے یقینی اور شک پیدا ہوجانا ہے۔ ایمان کمزور پڑ جائے تو انسان بے راہ روی اور شرک و بدعات کا شکار ہوجاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار شاہی مسجد باغ عامہ میں مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے جمعہ کے خطبے کے دوران کیا۔ مولانا ڈاکٹر احسن نے کہا کہ مسلسل آزمائشوں اور پریشانیوں کی وجہ سے بہت سے مسلمانوں کا اپنے رب سے اور ایمان سے تعلق کمزور ہورہا ہے۔ اللہ کے بجائے کسی غیر اللہ پر بھروسہ کرنا ایمان کی موت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امت مسلمہ اس وقت آزمائش کے دور سے گزر رہی ہے۔ لوگ اپنے ایمان و عقیدہ اور حضور اکرمؐ کی ذات اور تعلیمات سے متعلق مصلحت کا شکار ہیں۔مولانا ڈاکٹر احسن نے کہا کہ ایمان کی حفاظت ضروری ہے۔ اللہ رب العزت کا قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ بیشک ہم نے آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں پر اپنے احکام کی امانت پیش کی تو انہوں نے اس امانت میں خیانت کرنے سے انکار کیا، وہ اس میں خیانت کرنے سے ڈرے اور انسان نے اس امانت میں خیانت کی تو بیشک وہ بہت ظلم کرنے والا اور بڑا جاہل ہے۔ (الاحزاب) ۔مولانا احسن نے کہا کہ ہم جو منصوبے بناتے ہیں، وہ اپنے حساب سے بناتے ہیں۔ اگر وہ کامیاب ہوجائے تو خوش اور ناکام ہوجائے تو اس کا دوش زمانے کو دیتے ہیں۔ جب کہ اللہ بھی منصوبے بناتے ہیں۔ اگر ہمارے منصوبے پائے تکمیل کو پہنچے تو خدا کا شکر ادا کریں اور اگر ناکام ہو تو بھی خدا کا شکر ادا کریں کہ خدا کی مرضی اسی میں ہوگی اور خدا کا بنایا ہوا منصوبہ بہتر ہوگا۔ اسی لیے مثبت سوچ اور اللہ سے حسن عقیدت ضروری ہے۔ جب کہ آج کے ترقی یافتہ زمانے میں بھی لوگ بدعقیدگی اور بدگمانی کا شکار ہے۔ مولانا احسن نے کہا کہ صبح کے وقت کا سونا بھی منحوسیت ہے۔ رات میں دیر تک جاگنے سے بھی نحوست آتی ہے۔ حضور اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ صبح کے وقت کا سونا رزق کو روکتا ہے۔ جس سے محتاجی آتی ہے۔ ضرورت سے زائد خرچ کرنے سے بھی انسان نحوست کا شکار ہوتا ہے۔ ناجائز تعلقات سے نحوست آتی ہے۔تعلیم سے دوری سے جہالت عام ہورہی ہے، یہ بھی ایک طرح کی نحوست ہے۔ رات دیر گئے تک سرپرستوں کے جاگنے سے بچوں پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔ اس طرح کی عادتوں سے اجتناب ضروری ہے۔