کابل 8 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) طالبان نے کہا کہ بات چیت منسوخ کئے جانے کا سب سے زیادہ نقصان امریکہ کو ہوگا تاہم طالبان نے مستقبل میں بات چیت کا امکان برقرار رکھا ہے ۔ واضح رہے کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اچانک اعلان کردیا تھا کہ انہوں نے طالبان اور امریکہ کے مابین گذشتہ ایک سال سے جاری مذاکرات کو ختم کردیا ہے ۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹوئیٹر پر کہا کہ ہم کو اب بھی امید ہے کہ امریکہ ایک بار پھر بات چیت کی بحالی پر آئے گا ۔ ہماری لڑائی گذشتہ 18 سال سے جاری ہے جس سے امریکہ پر یہ ثابت ہوجانا چاہئے کہ ہم اس وقت تک مطمئن نہیں ہونگے جب تک افغانستان سے بیرونی تسلط پوری طرح ختم نہیں ہوجاتا ۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے گروپ نے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کو قطعیت دیدی تھی جس میں یہ امید تھی کہ امریکہ طالبان کے سکیوریٹی وعدوں کے بدلے میں اپنی افواج سے دستبرداری کا سلسلہ شروع کرے گا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے اس معاملت کے اعلان کی تیاریاں کی جا رہی تھیں اور اس پر جلدی ہی دستخط ہونے کا امکان تھا کہ اچانک ہی ہفتہ کی رات دیر گئے ٹرمپ نے اعلان کردیا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ بات چیت کو منقطع کردیا ہے ۔ ٹرمپ نے کابل میں جمعرات کو ہوئے ایک طالبان حملے کو اس بات چیت کے التواء کی وجہ بتایا ہے جس میں 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں ایک امریکی سپاہی بھی شامل تھا ۔ ٹرمپ نے ایک خفیہ ملاقات کو بھی منسوخ کردیا ہے ۔