سب کا ساتھ سب کا وِکاس‘ مودی کا نعرہ سب بکواس

   

سرسلہ میں ضلعی ٹی آر ایس کارکنان کا اجلاس۔ ریاستی وزیر کے ٹی آر کا خطاب

گمبھی راؤ پیٹ۔ ’ سب کا ساتھ سب کا وِکاس ‘ مودی کا نعرہ سب کچھ بکواس ہے۔ یہ بات ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق و ٹی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے کہی۔ وہ آج یہاں سرسلہ منٹی کنٹہ فنکشن ہال میں ضلعی سطح کے ٹی آر ایس کارکنوں و قائدین کے اجلاس کو مخاطب کررہے تھے۔ کے ٹی آر نے مرکزی حکومت بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے مودی سے کئی مرتبہ نمائندگی کی گئی تاکہ تلنگانہ میں بنکروں کی فلاح و بہبود کیلئے میگا کلسٹر پاور لومس قائم کئے جاسکیں۔ لیکن مرکز نے اکثر تلنگانہ حکومت کی جانب سے دی گئی نمائندگیوں کو نظرانداز کردیا ۔ کے ٹی راما راؤ نے دوٹوک مودی سے سوال کیا کہ کہاں گئے آپ کے وعدے جو 2014 کے دوران عوام سے کئے گئے تھے۔ کے ٹی آر نے مضحکہ خیز انداز میں کہا کہ مودی نے 2014 کے انتخابات کے دوران ملک کی عوام کو بینکوں کے ذریعہ جن دھن اکاؤنٹ کھولنے کی ہدایت دی تھی تاکہ وہ ان میں راست طور پر 15 لاکھ روپئے جمع کرواسکیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ 15 لاکھ روپئے تو دور کی بات ہے 15 پیسے بھی ان اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوئے۔ کے ٹی آر نے تلنگانہ سے مرکز کے رویہ پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس کارکردگی انجام دینے والی تنظیم نیتی آیوگ نے تلنگانہ کی ترقی کیلئے 24 ہزار کروڑ روپئے دینے کی سفارش کی تھی لیکن مرکز میں اسے بھی نظرانداز کردیا۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ملک بھر میں 107 میڈیکل کالجس، 8 آئی اے ایم کے علاوہ کئی IIT کالجس کی منظوری دی لیکن اس میں تلنگانہ کیلئے ایک کالج بھی مختص نہیں کیا گیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مودی نے نوجوانوں کو ہر سال 2 کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ آج آٹھ سال کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن مرکز کی باگ ڈور سنبھالنے والے نریندر مودی نے کسی بھی نوجوان کو روزگار سے مربوط نہیں کیا۔ بی جے پی کو ملک کی گرتی ہوئی معیشت کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ملک کس طرف جارہا ہے، بے روزگاری کس حد تک بڑھ چکی ہے اس کی کوئی فکر نہیں ہے مگر ملک میں فرقہ پرستوں کو بڑھاوا دے کر نفرت کی آگ پھیلانے، ہندو مسلم، ہندوستان پاکستان، اکبر، بابر کے نام پر سیاسی کھیل کھیلنے میں دلچسپی ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے علحدہ ریاست کی تشکیل کو کے سی آر کی تحریک کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ کے سی آر کی قیادت میں تلنگانہ ترقی کی طرف گامزن ہے ۔ کے ٹی آر نے کہاکہ آج تلنگانہ میں انجام دیئے جانے والے فلاحی اسکیمات ، فلاحی کام ملک کی دیگر ریاستوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے بی جے پی قائدین کو انتباہ دیا کہ وہ اپنے حدود میں رہتے ہوئے بات کریں ورنہ انہیں منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اس اجلاس کو تلنگانہ پلاننگ بورڈ وائس چیرمین بوئن پلی ونود کمار، ارکان اسمبلی رسا ملا بالاکشن، سی ایچ رمیش بابو، ایس روی شنکر، ارکان قانون ساز کونسل بھانو پرساد، ضلع پریشد چیرپرسن ارونا راگھوا ریڈی، ٹیسکوپ چیرمین رویندر راؤ نے بھی مخاطب کیا۔