نئی دہلی: ہندوستان میں بچوں کیلئے کورونا ٹیکہ اندازی کی مہم ستمبر سے شروع ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں اشارہ دیتے ہوئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے سربراہ ڈاکٹر رندیپ گلیـریا نے کہا کہ بچوں کی ٹیکہ کاری کورونا کی چین کو توڑنے کیلئے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ “میرے خیال میں زائڈس کیڈیلا نے آزمائشیں پوری کر لی ہے اور وہ ہنگامی استعمال کے لئے منظوری کے منتظر ہیں۔ بھارت بائیوٹیک کی کوویکسین کا بچوں پر ٹرائل بھی اگست یا ستمبر تک مکمل ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف فائزر کی ویکسین کو امریکی ریگولیٹر سے ہنگامی منظوری حاصل ہو گئی ہے۔ لہذ ا یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ستمبر تک بچوں کو ٹیکہ لگانے کی مہم میں کامیابی حاصل ہوگی۔ہندوستان میں اب تک 42 کروڑ سے زیادہ بالغوں کو کورونا کی کم از کم ایک خوراک دی جا چکی ہے۔ حالانکہ تاحال ملک کی قریب 6 فیصد آبادی کو ہی کورونا کی ویکسین دی جا سکی ہے۔ اس سال کے آخر تک حکومت نے تمام بالغوں کو کورونا ویکسین فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن اس کیلئے ہر روز تقریباً ایک کروڑ ویکسین کی خوراکیں فراہم کرنا ضروری ہیں۔ جبکہ فی الحال ہر روز 40 سے 50 لاکھ کے درمیان ہی کورونا کی خوراکیں فراہم ہو رہی ہیں۔حکومت کا مقصد ہے کہ 2021 کے آخر تک 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام شہریوں کو کورونا ویکسین کی ایک خوراک دے دی جائے۔ متعدد ممالک نے تیسری لہر کے خطرے کے پیش نظر بچوں کی ویکسین کو منظوری فراہم کر دی ہے، تاہم ہندوستان میں ابھی تک بچوں کیلئے کوئی ویکسین منظور نہیں کی گئی ہے۔ ایمس کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں بچوں کیلئے اپنی ویکسین کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت بائیوٹیک اور زائڈس کیڈیلا کی ویکسین انتہائی اہم ہے۔ فائزر کی ویکسین بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے لیکن آبادی بہت زیادہ ہونے کے سبب ہمیں اپنی ویکسین کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ہم امید کرتے ہیں کہ ستمبر تک ہمارے ملک میں بچوں کیلئے ایک سے زیادہ ویکسین دستیاب ہو جائیں گی۔