نئی دہلی۔ ایک دہے سے قومی ریسلنگ ٹیم کے ساتھ کوچ کا عہدہ سنبھالنے والے گروہنومان اکھاڑہ کے معروف کوچ سجیت مان نے رواں سال درون اچاریہ ایوارڈ کے لئے کسی بھی موجودہ کوچ کے نام کی سفارش نہ کئے جانے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریسلنگ ملک کا واحد کھیل ہے جس میں ہندوستان نے پچھلے تین اولمپکس میں مسلسل میڈلس جیتے ہیں۔ نیشنل اسپورٹس ایوارڈ کے لئے12 رکنی کمیٹی نے اس بار درون اچاریہ ایوارڈ کے لئے مجموعی طور پر13 ناموںکی سفارش کی ہے ،اس میں لائف ٹائم زمرے میں آٹھ اور باقاعدہ زمرے میں پانچ نام شامل ہیں۔ او پی دھیا کا نام لائف ٹائم زمرے میں رکھا گیا ہے لیکن کسی تیسرے سال تک کسی بھی ریسلنگ کوچ کا نام باقاعدہ زمرے میں نہیں آتا ہے ۔ خود سجیت کا نام لگاتار تیسرے سال بھی درون اچاریہ کے لئے نامزدکیا گیا تھا لیکن قواعد کے مطابق سب سے زیادہ نشانات رکھنے کے باوجود انہیں ایک بار پھر نظراندازکردیا گیا۔ انہوں نے پچھلے دو سال میں سب سے زیادہ اسکور بھی کیا لیکن انہیں نظراندازکردیا گیا۔ ٹوکیو اولمپکس میں میڈل کی سب سے بڑی امید قرار دئے گئے بجرنگ پنیا اوراولمپک میڈل جیتنے والے سشیل کمار اور یوگیشور دت جیسے تجربہ کار پہلوانوں کے ساتھ قومی کیمپ میں کوچ رہے سجیت مان کا نام ہندوستانی ریسلنگ فیڈریشن اور ریلوے اسپورٹس پروموشن بورڈ نے وزارت کو بھیجا تھا۔