چیف منسٹر کے دفتر کے احکامات کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود کی کارروائی
حیدرآباد۔31 ۔ جولائی (سیاست نیوز) مسلمانوں کی سماجی ، معاشی اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے قائم کردہ جی سدھیر کمیشن آف انکوائری کی میعاد آج ختم ہوچکی ہے۔ حکومت نے کمیشن کی میعاد میں مزید توسیع نہ کرتے ہوئے کمیشن کے دفتر کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ جی سدھیر کمیشن آف انکوائری 3 مارچ 2015 ء کو جی او ایم ایس 5 کے ذریعہ قائم کیا گیا تھا ۔ کمیشن کے ارکان میں پروفیسر شعبان ، عامر اللہ خان اور ایم اے باری شامل تھے۔ کمیشن نے مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو سفارشات پیش کی تھی جس میں موجودہ تحفظات میں اضافہ کی سفارش شامل ہے۔ مختلف مراحل میں کمیشن کی میعاد میں 7 مرتبہ توسیع کی گئی اور آخری مرتبہ 31 جولائی تک توسیع دی گئی تھی ۔ تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے علاوہ کمیشن نے دیگر ریاستوں میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کی اسکیمات اور بجٹ سے متعلق علحدہ رپورٹ پیش کی تھی۔ حکومت اگر چاہتی تو کمیشن کی میعاد میں مزید توسیع کی جاسکتی تھی لیکن آج کمیشن کو بند کرنے کی ہدایت دے دی گئی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے کمیشن کے سکریٹری کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ہدایت دی کہ دفتر کی سرگرمیاں بند کرتے ہوئے تمام ریکارڈ اور دیگر میٹریل ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے حوالے کئے جائیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے دفتر سے ٹیلیفون پر موصولہ ہدایت کا حوالہ دیا۔ واضح رہے کہ سدھیر کمیشن تلنگانہ میں اقلیتوں کی ترقی کے سلسلہ میں حکومت کو جامع سفارشات پیش کرسکتا تھا۔ حکومت نے جس طرح بی سی اور ایس سی کمیشن قائم کیا ہے ، اسی طرح سدھیر کمیشن کو برقرار رکھنے کے بجائے اسے بند کرنے کی ہدایت دی گئی۔
