سدیرمان کپ: ہندوستان کوچائنیز تائی پے سے 1-4کی شکست

   

گایتری اور ترشا کی جوڑی کے نام واحد کامیابی

سوزہو (چین)۔ ہندوستان نے اپنی سدیرمان کپ مہم کا آغاز مایوس کن انداز میں کیا، یہاں اپنے ابتدائی گروپ سی مقابلوں میں چائنیز تائی پے کے خلاف 1-4 سے شکست کھائی۔ مقابلہ کا آغاز مکسڈ ڈبلز میچ سے ہوا، جہاں سائی پراتیک اور تنیشا کرسٹو کی جوڑی کو یانگ پو ہسوان اور ہو لنگ فینگ کے خلاف 21-18، 24-26، 6-21 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ۔ہندوستانی کھلاڑیوں نے اچھی شروعات کی اور پہلا گیم اپنے نام کیا لیکن رفتار کو جاری رکھنے میں ناکام رہے کیونکہ وہ دوسرا گیم 24-26 اور فیصلہ کن گیم 6-21 سے ہارگئے، اس طرح تائی پے نے ٹائی میں ابتدائی 1-0 کی برتری حاصل کی۔دوسرے مقابلے میں ہندوستان کے ٹاپ رینک والے مردوں کے سنگلز کھلاڑی ایچ ایس پرنائے راست گیمز میں 21-19، 21-15 سے عالمی نمبر 5 چو ٹیئن چن سے شکست کھاگئے ۔ تیسرے میچ میں پی وی سندھوکا مقابلہ اپنی جانی پہچانی حریف تائی زو ینگ سے تھا۔ تائی پے کے شٹلر نے آرام سے پہلا گیم جیت لیا اور ہندوستانی کھلاڑی نے فیصلہ کن گیمزمیں لے جانے کے لئے دوسرا گیم جیت لیا۔ لیکن تائی کھلاڑی نے فیصلہ کن گیم میں دوبارہ گروپ بنایا اور سندھو کو 14-21، 21-18، 17-21 سے شکست دے کر تائی پے کے لیے 3-0 کی ناقابل تسخیر برتری کے ساتھ مقابلے پر کامیابی کی مہر ثبت کی۔خاص طور پر ہر مرحلے میں پانچ میچ ہوتے ہیں جو کہ ویمنز سنگلز، مینز سنگلز، مکسڈ ڈبلز، ویمنز ڈبلز اور مینز ڈبلز۔ ان پانچ میں سے تین میچ جیتنے والی ٹیم ٹائی اور ایک پوائنٹ حاصل کر لیتی ہے۔ہندوستان کو تین مقابلے میں شکست دینے کے بعد لی یانگ اور وانگ چی لن نے برتری کو 4-0 تک بڑھاتے ہوئے مردوں کے ڈبلز میچ میں ہندوستان کے ٹاپ رینک والے مردوں کی جوڑی، ستوک سائراج رینکی ریڈی اور چراغ شیٹی کو 21-13، 17-21، 21-18 سے شکست دی۔ ٹائی کے آخری میچ میں،گایتری گوپی چند پلیلا اور ترشا جولی کی خواتین کے ڈبلز جوڑی نے لی چیا ہسن اور ٹینگ چن سن کے خلاف 15-21، 21-18، 21-13 سے جیت کر ہندوستان کی دن کی پہلی جیت حاصل کی۔ہندوستان کا اگلا گروپ سی ٹائی میں پیرکو ایک اور بڑی حریف ٹیم ملائیشیا کا مقابلہ ہوگا اور چہارشنبہ کو آسٹریلیا کے خلاف مقابلہ ہوگا۔ ہندوستانی بیڈمنٹن ٹیم نے سدیرمان کپ میں کبھی میڈل نہیں جیتا ہے۔ 2011 اور 2017 میں کوارٹر فائنل کی تکمیل دو سالہ مکسڈ ٹیم ایونٹ میں ہندوستان کے بہترین نتائج ہیں۔امید کی جارہی تھی کہ اس مرتبہ ہندوستانی ٹیم بہتر مظاہروں کے ذریعہ اپنے ریکارڈ کو بہتر کرے گا لیکن ابتدائی مرحلے میں چار ناکامیوں کے بعد اس کے حوصلے بلند ہونا آسان نہیں ہے ۔ ملائیشیا کے خلاف بھی مقابلے آسان نہیں ہوں گے ۔