دوسری مرتبہ مقابلہ کا موقع، کانگریس اور ٹی آر ایس میں سخت مقابلہ
حیدرآباد۔21۔ ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حضور نگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں ایس سیدی ریڈی کو پارٹی امیدوار بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ کے سی آر نے آج اس نام کی منظوری دی۔ 2018 ء اسمبلی انتخابات میں سیدی ریڈی حلقہ اسمبلی حضور نگر سے ٹی آر ایس کے امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کرچکے ہیں ۔ انہیں اتم کمار ریڈی کے مقابلہ شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ چیف منسٹر نے انہیں دوسری مرتبہ ٹکٹ دیا ہے ۔ لوک سبھا کیلئے منتخب ہونے کے بعد اتم کمار ریڈی نے حضور نگر کی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے باعث ضمنی انتخابات ہورہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق 21 اکتوبر کو رائے دہی ہوگی جبکہ 24 اکتوبر کو نتیجہ کا اعلان کیا جائے گا ۔ حضور نگر اسمبلی حلقہ کی سیاسی حمیت اس اعتبار سے بڑھ جاتی ہے کہ صدر پردیش کانگیرس اس حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دونوں پارٹیاں اس حلقہ سے کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے اور یہ حلقہ دونوں کے وقار کا مسئلہ بن چکا ہے۔ کانگریس کے متحدہ نلگنڈہ ضلع سے تعلق رکھنے والے تمام قائدین نے متحدہ طور پر کانگریس امیدوار کی حیثیت سے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسی دوران ٹی آر ایس حلقوں کا احساس ہے کہ حضور نگر کا ضمنی چناؤ پارٹی کیلئے اگنی پرکشھا سے کم نہے ہے۔ حضور نگر اسمبلی حلقہ کے قیام کے بعد سے ٹی آر ایس کو ایک مرتبہ بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ 2009 ء سے اب تک تین اسمبلی انتخابات میں ٹی آر کو شکست کا سامنا کنا پڑا۔ 2009 ء میں موجودہ ریاستی وزیر جگدیش ریڈی کو حضور نگر سے شکست ہوئی تھی ۔ 2014 ء میں کے شنکرماں کو ٹی آر ایس نے ٹکٹ دیا تھا لیکن نتیجہ کانگریس کے حق میں ۔ اس کے بعد جگدیش ریڈی کے قریبی سیدی ریڈی کو میدان میں اتارا گیا ۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ نلگنڈہ لوک سبھا حلقہ سے محروم ہونے والی ٹی آر ایس ضمنی انتخاب میں کامیابی کیلئے ہر ممکن کوشش کرسکتی ہے۔