سدی پیٹ شاہراہ کی اراضیات پر رئیل اسٹیٹ تاجرین کی توجہ

   

Ferty9 Clinic


بین الاقوامی ایرپورٹ کے قیام کے اعلان کے بعد اراضیات حصول کے اقدامات
حیدرآباد۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سدی پیٹ دورہ کے موقع پر اپنے خطاب کے دوران سدی پیٹ میں نئے ائیر پورٹ کے اعلان کے ساتھ ہی رئیل اسٹیٹ شعبہ کو سدی پیٹ‘ شاہ میر پیٹ کے علاقوں کی جانب متوجہ کردیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ رئیل اسٹیٹ شعبہ سے تعلق رکھنے والے تاجرین کی جانب سے ان علاقو ںمیں جائیدادوں کے حصول پر توجہ دی جانے لگی ہے ۔ چیف منسٹر کی جانب سے دورۂ سدی پیٹ کے دوران ترقیاتی کاموں اور منصوبوں کے اعلان کے دوران یہ کہا گیا ہے کہ حکومت سدی پیٹ میں نئے ائیر پورٹ کے قیام کے سلسلہ میں سنجیدہ اقدامات کررہی ہے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حیدرآباد کے بعد تلنگانہ میں دوسرا انٹرنیشنل ائیر پورٹ سدی پیٹ میں قائم کیا جائے۔ رئیل اسٹیٹ تاجرین نے چیف منسٹر کے اس اعلان کے ساتھ ہی سدی پیٹ کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں اراضیات کے حصول کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کردیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کے مطابق سدی پیٹ میں انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی تعمیر کی صورت میں اس علاقہ میں اراضیات کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ ماہر رئیل اسٹیٹ تاجرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے نئے انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی تعمیر کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنائے جانے کی صورت میں سدی پیٹ ایک نئے انفارمیشن ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے اسی لئے یہاں سرمایہ کاری کے سلسلہ میں توجہ دی جا رہی ہے۔ تاجرین کا کہناہے کہ انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی صورت میں نہ صرف انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکز کے فروغ کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ سیاحت اور ہوٹلوں کے لئے بھی اراضیات کی خریدی کے رجحان میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے اسی لئے چیف منسٹر کے اعلان کے بعد سے تاجرین کی توجہ سدی پیٹ میں سرمایہ کاری کی سمت راغب ہونے لگی ہے۔سدی پیٹ کے علاوہ میں آبپاشی پراجکٹس اور سیاحتی پراجکٹس کے سبب اراضیات کی قیمتو ںمیں کافی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے لیکن اب جبکہ چیف منسٹر نے انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا اعلان کردیا ہے تو ایسے میں تلنگانہ کے تیزی سے ترقی حاصل کرنے والے اضلاع میں سدی پیٹ کا شمار ہوگا اور تاجرین کی توجہ اس جانب ہونا فطری بات ہے کیونکہ سدی پیٹ ریاست کے اضلاع میں ایک ایسا ضلع ہے جہاں اراضیات کی قیمتو ںمیں تیز رفتار اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور ترقیاتی کاموں کے علاوہ تیز رفتارترقی کے سبب یہاں اراضیات کا حصول مشکل ہوتا چلا جا رہاہے اسی لئے اس علاقہ میں سرمایہ کاری پر توجہ مبذول کی جارہی ہے۔