سدی پیٹ۔19 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سدی پیٹ ضلع مستقر میں موجودہ بڑھتی ہوئی مسلم آبادی کی وجہ سے عیدگاہ و قدیم قبرستان تنگ دامنی کا شکارہیں۔ چونکہ علیحدہ تلنگانہ و سدی پیٹ ضلع کی تشکیل کے بعد بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے قدیم قبرستانوں میں قبور کی جگہ کیلئے بہت مشکل پیش آرہی ہے، مسلمانان سدی پیٹ نے اس بات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ماضی کی حکومت سے ربط پیدا کیا تھا اور اس پر خاص توجہ مبذول کرواتے آرہے ہیں۔اس بار بھی توقع کرتے ہوئے موجودہ حکومت سے یاداشت ِعرضی کو تحریری و زبانی طور پر انچارچ سدی پیٹ و منسٹر وویک وینکٹ سوامی کے علم میں لایا گیا۔ انہوں نے جدید عید گاہ و قبرستان کے لیے مستقر میں نئی سب جیل کے قریب واقع دو ایکڑ تین گنٹے زمین کی نشاندہی کرتے ہوئے کل بروز ہفتہ مدینہ فنکشن ہال بعد ظہر اجلاس عام رکھا گیا جس میں زمین کی پروسیڈنگ کاپی کے نمونے کو منسٹر و انچارچ سدی پیٹ وویک وینکٹ سوامی نے کارکنان پارٹی کے حوالے کیا۔ انہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس کی حد بندی ، پانی و برقی گیٹ وغیرہ کو اپنی نگرانی میں کروانے کا تیقن دیا۔