سدی پیٹ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا نمایاں مظاہرہ

   

دسہرہ کے موقع پر تنظیم المساجد کی جانب سے ہندو بھائیوں کیلئے پانی کا انتظام، مٹھائیوں کی تقسیم
سدی پیٹ۔ 21 اکٹوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مذاہب الگ الگ ہیں لیکن تہوار کی خوشیاں مشترکہ ہیں۔ عقیدے کے راستے مختلف ہونے کے باوجود لوگ محبت، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ پیغام ایک بار پھر سدی پیٹ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک نمایاں مثال بن چکی ہے۔ یہاں دسہرہ محض ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ باہمی اعتماد، سماجی رشتوں اور مل جل کر رہنے کی روایت کی علامت بھی ہے۔کہیں بھی مذہبی تفریق دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے برعکس دونوں برادریوں کے درمیان ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت اور خوشیاں بانٹنے کی روایت نے ہم آہنگی کے رشتوں کو مضبوط کیا ہے۔ دسہرہ تہوار کے موقع پر ہندو بھائیوں نے جب جمی کی پوجا اور پرندہ کا نظارہ کیلئے نرساپور رنگدامپلی کے جانب نکلے مسلم برادری کے لوگ تنظیم المساجد سدی پیٹ کے زیر نگرانی ہندو بھائیوں کو تہوار کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا گیا راہگیروں میں مٹھائیاں بچوں کیلئے چاکلیٹ تقسیم کئے گئے دسہرہ تہوار کی خوشیوں میں شریک ہونے کیلئے خیرمقدمی ٹینٹ نصب کرتے ہوئے سبیل کا اہتمام بھی کیا گیا۔اس موقع پر مہمان خصوصی سابقہ ایم ایل سی فاروق حسین نے بات کرتے ہوئے کہا کہ سدی پیٹ ایک پرامن بھائی چارگی کا مقام ہے گزشتہ 40 برس سے سدی پیٹ میں دسہرہ تہوار کے موقع پر سدی پیٹ میں تنظم المساجد دسہرہ تہوار کے شریک ہوکر ہندو بھائیوں کیلئے پینے کا پانی نظم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہندو برادری کے افراد بھی عید کے موقع پر مسلمانوں کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سیکولرازم کو برقرار رکھنے کیلئے ایک دوسرے مذاہب کے عید اور تہواروں کے موقع خوشیوں میں شریک ہونا ضروری ہے۔ اس موقع پر صدر تنظم المساجد محمد آصف، معتمد کمیٹی محمد اکبر نواب، حج کمیٹی سدی پیٹ کے صدر محمد منصور ایم ایم اسٹیل، بی آر ایس کے قائد محمد منصور علی، محمد ریاض، محمد شاہد اور دیگر نوجوان موجود تھے۔