سدی پیٹ میں ودیا والینٹرس کے تقررناموں کی تقسیم

   

سدی پیٹ : مذہب اسلام نے حصول تعلیم کو فوقیت بخشی ہے۔ ہندوستانی آئین ہندوستانی قانون میں بھی ہر شہری کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی حق بتایا گیا ہے۔ حکومتیں بھی اپنی رعایا کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے پر گامزن ہے مگر جہاں تعلیم میں زبان تعلیم کا زکر ہوتا ہے تو کسی حد تک اردو کو دیگر زبانوں کے برعکس توجہ نہیں دی جاتی ہے اردو ایک لشکری اور ہندوستانی زبان ہے باوجود اسکے اردو کو مسلمانوں سے جوڈ کر تعصب کا شکار بنادیا جاتا ہے اسکی اہمیت کو گھٹایا جاتا ہے۔ ان محبان اردو میں ایک نام سعادت نظیر بانی سدی پیٹ فاونڈیشن سنگاپور کا ہے جنھوں نے سدی پیٹ کے اردو میڈیم مدارس کا سروے رپورٹ متعلقہ اسکولوں کو پیش کی اور انتظامیہ کی جانب سے عمل درآمد نہونے پر خود ساختہ طور پر سدی پیٹ اسکولوں میں اساتذہ کو اپنے زاتی سرمایہ سے ودیا والینٹرس کو تعین کیا ہے۔ سدی پیٹ فاونڈیشن سعادت نظیر نے سدی پیٹ اردو میڈیم اسکولوں کے صدر مدرسین کی اجازت پر اساتذہ شائستہ تمرین ایم ایس سی بی ایڈ کو گورنمنٹ گرلز اسکول ، مسرور فاطمہ بی ایس سی بی ایڈ کو ساجد پورہ نمبر 6 اسکول، عرشیہ فردوس بی ایس سی ڈی ایڈ بی ایڈ کو پرائمری اسکول نمبر 2 ناصر پورہ، سیدہ نگار عسکری بی ایس سی بی ایڈنمبر2پرائمری اسکول ناصر پورہ سدی پیٹ میں بحیثیت ویدیا والینٹرس مقررکیا۔مزکورہ اساتذہ کے تقرر نامہ بدست کلیم الرحمن نمائندہ سیاست و سابق بورڈ آف ڈائریکٹر اردو اکیڈمی نے عطا کئے۔ اس موقع پر کنوینر لائق محی الدین، کو کو کنوینر عظیم الدین و دیگر موجود تھے۔