سدی پیٹ کے بی آر ایس قائد محمد عبدالقادر کی کانگریس میں شمولیت

   

کے سی آر حکومت پر مسلمانوں کے مسائل کو نظرانداز کرنے کا الزام
حیدرآباد ۔ 3 جون (سیاست نیوز) ریاستی حج کمیٹی کے سابق رکن اور سدی پیٹ میں بی آر ایس کے سینئر لیڈر محمد عبدالقادر نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ وہ سال 2009ء سے ملت اسلامیہ ویلفیر سوسائٹی کے صدر ہیں۔ یہ تنظیم ایک ایسی فلاحی تنظیم ہے جو بیواؤں، یتیم و یسیر بچوں اور معذورین کی مدد کرتی ہے اور ماہانہ 130 بیواؤں، یتیموں اور معذورین میں فی کس 500 روپئے امداد کی تقسیم عمل میں لائی ہے۔ اس طرح ماہانہ 65 ہزار روپئے کی مدد کیلئے خرچ کرتی ہے۔ واضح رہیکہ سال 2014ء سے محمد عبدالقادر بی آر ایس سے وابستہ تھے اور مسلمانوں و یگر اقلیتوں کو بی آر ایس سے قریب کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ بی آر ایس قیادت بی جے پی سے ڈرا کر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کررہی ہے اور مسلمانوں کی بہبود و ترقی کے کوئی کام نہیں کررہی ہے۔ 12 فیصد تحفظآت کا وعدہ ابھی تک وفا نہ ہوا حالانکہ کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ تحریک اور بعد میں یہ اعلان کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے اندرون 4 ماہ ملازمتوں اور تعلیم میں مسلمانوں کو فراہم کئے جانے والے 4 فیصد تحفظات بڑھا کر 12 فیصد کردیئے جائیں گے لیکن آج تک کے سی آر نے اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ محمد عبدالقادر جنہوں نے 31 مئی کو کل ہند کانگریس کمیٹی اقلیتی سیل کے سربراہ عمران پرتاپ گڑھی اور تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیتی سیل کے سربراہ عبداللہ سہیل کی موجودگی میں اپنے حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ بتایا کہ قومی سطح پر بی جے پی کا مقابلہ صرف کانگریس کرسکتی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ محمد عبدالقادر سدی پیٹ کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم، تنظیم المساجد کے 2007ء تا 2009ء صدر بھی رہے۔ حکومت کی انشورنس اسکیم کے تحت 250 مرد و خواتین کو استفادہ کروانے میں اہم رول ادا کیا۔ مجتبیٰ ہیلپنگ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ملت اسلامیہ ویلفیر سوسائٹی سے 5500 خاندانوں کو بلالحافظ مذہب و ملت خصوصی ہیلتھ کارڈس بھی بنوائے جس پر حیدرآباد کے 25 ہاسپٹل میں ان اور آوٹ پیشنٹ کیلئے 50 فیصد ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے۔