نیویارک : سراج الدین حقانی کا اس طرح کھلے عام ایک عوامی تقریب میں شریک ہونا دراصل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان کے اعتماد میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ انتہائی خفیہ زندگی بسر کرنے والے طالبان کے رہنما سراج الدین حقانی پہلی مرتبہ میڈیا کے سامنے آگئے ہیں ۔ قبل ازیں ان کی صرف ایک ہی تصویر سامنے آئی تھی اور وہ بھی واضح نہیں تھی ۔ سراج الدین حقانی نہ صرف طالبان کی طرف سے وزیر خارجہ بنائے گئے ہیں بلکہ وہ ’’حقانی‘‘ نیٹ ورک کے سربراہ بھی ہیں ۔ امریکی حکومت نے انہیں انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جبکہ ان کی گرفتاری میں مدد کروانے والے کیلئے دس ملین ڈالر کا انعام بھی دیا جائے گا ۔ اقوام متحدہ نے بھی انہیں دہشت گردوں کی بلیک لسٹ میں شامل کر رکھا ہے ۔سراج الدین حقانی ہفتہ کے دن کابل میں منعقدہوئی ایک تقریب میں شریک ہوئے ۔ بتایا گیا ہے کہ وہ نیشنل پولیس اکیڈیمی کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں میڈیا اور عوام کے سامنے آئے ۔ نائب افغان وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر کے قریبی ساتھی عبداللہ عظام نے اپنے ٹوئیٹر پر ان کی تصویر شائع کی ۔ سراج الدین حقانی نے پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب میں نئے بھرتی کئے گئے سیکورٹی اہلکاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی تسلی اور اعتماد جیتنے کی خاطر میڈیا اور عوام کے سامنے آیا ہوں ۔ واضح رہے کہ گذشتہ برس وسط اگست میں طالبان کی طرف سے افغانستان پر قبضے کے بعد سے سراج الدین حقانی ابھی تک عوامی سطح پر نمودار نہیں ہوئے تھے ۔