نئی دہلی ۔26 ڈسمبر (ایجنسیز) ہندوستانی کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث اس وقت چھڑ گئی ہے جب سابق لیجنڈری کپتان سنیل گواسکر نے گوتم گمبھیر سے منسوب سلیکشن پالیسی پر سخت تبصرہ کیا۔ سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی ایک تصویر جس میں لفظ جوابدہی نمایاں تحریر ہے، حالیہ انتخابی فیصلوں اور تجربہ کارکھلاڑیوں محمد سمیع ، سرفراز خان اور محمد سراج کو نظرانداز کیے جانے پر بڑھتی ہوئی تنقید کی عکاسی کرتی ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس تصویر نے عوامی حلقوں میں ایک نیا موضوع شروع کردیا ہے۔ سنیل گواسکر کے مطابق مسئلہ صرف فارم یا حکمتِ عملی تک محدود نہیں بلکہ مستقل کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو بار بار باہر رکھنا سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتِ حال یا تو وژن کی کمی کو ظاہرکرتی ہے یا پھر کسی ذاتی عناد کا نتیجہ ہے۔ ہندوستان کے سب سے معزز کرکٹ ناموں میں سے ایک کی جانب سے اس نوعیت کا بیان ٹیم سلیکشن میں شفافیت اور انصاف پر جاری بحث کو مزید تقویت دیتا ہے۔ یہ تنقید ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ میچوں میں ہندوستانی ٹیم کی بولنگ اور مڈل آرڈر میں عدم تسلسل نمایاں رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دباؤ والے لمحات میں شاندارکارکردگی دکھانے والے محمد سمیع اور محمد سراج جیسے بولروں کو باہر رکھنا ٹیم کی مسابقتی طاقت کوکمزورکرتا ہے۔ اسی طرح شاندارگھریلو کارکردگی کے باوجود سرفراز خان کو مسلسل نظرانداز کرنا شائقین اور ماہرین دونوں کے لیے حیران کن ہے۔سوشل میڈیا پر جو تصویر زیر گردش ہے اس میں تاریک اور طوفانی فضا میں پریکٹس کرتے کھلاڑیوں اور سوالیہ نشانات سے بھری سلیکشن بورڈکی منظر کشی، انتخابی پالیسیوں پر چھائی غیر یقینی صورتحال کی علامت بن گئی ہے۔ یہ منظر شائقین اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے واضح جواب دہی، یکساں معیار اور طویل مدتی وژن کے مطالبے کو اجاگر کرتی ہے۔ اگرچہ گوتم گمبھیر نے تاحال سنیل گواسکر کے بیانات پر کوئی عوامی ردِعمل نہیں دیا، تاہم اس بحث نے سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ سے وضاحت کے مطالبات کو مزید تیز کردیا ہے۔ آنے والے بین الاقوامی چیلنجز سے قبل، ان سوالات کا جواب دینا کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
