نئی دہلی، 6 اگست (آئی اے این ایس) ہندوستان کے عظیم سابق کرکٹر سچن ٹنڈولکر نے کہا ہے کہ انہیں محمد سراج کا رویہ بہت پسند ہے اور یہ کہ فاسٹ بولرکو وہ تعریف نہیں ملتی جس کا وہ مستحق ہے۔ اوول کے میدان پر پانچویں دن سراج نے شاندار 104 رنزکے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت ہندوستانی ٹیم نے پانچ میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کو6 رنز سے شکست دے کر سیریز 2-2 سے برابر کی۔ انگلینڈ کے بیٹرس سراج کی درست اور نپی تلی بولنگکا مقابلہ نہ کر سکے، جب انہوں نے پانچویں دن صرف 25 گیندوں میں9 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ سراج نے میچ کا اختتام انگلینڈ کے بیٹر گَس ایٹکنسن کی آف اسٹمپ اْڑا کرکیا، اور یوں خود کو ہندوستانی کرکٹ کی سنہری تاریخ میں شامل کر لیا۔ تنڈولکر نے اپنے ریڈٹ (ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم) پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا ناقابلِ یقین! بہترین طرزِ عمل۔ مجھے اْس کا رویہ بہت پسند ہے، اْس کے قدموں میں جو توانائی ہے وہ لاجواب ہے۔ جب ایک فاسٹ بولرمسلسل حریف بیٹرس کے سامنے دباؤ بنائے رکھتا ہے تو کسی بھی بیٹرکو یہ پسند نہیں آتا۔ آخری دن تک اس نے جو انداز برقرار رکھا، وہ زبردست تھا۔ میں نے تبصروں میں سنا کہ وہ آخری دن بھی 90 میل فی گھنٹہ (یعنی 145 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے بولنگ کر رہا تھا، حالانکہ وہ اس سیریز میں پہلے ہی 1000 سے زیادہ گیندیں کرچکا تھا۔ یہ اْس کی ہمت اور بڑے دل کی علامت ہے۔ سراج نے پوری سیریز میں سب سے زیادہ 23 وکٹیں حاصل کیں، 32.43 کی اوسط سے، اور جملہ 1113 گیندیں ڈالیں۔ تنڈولکر نے مزید کہاجس انداز میں اْس نے آخری دن کا آغاز کیا وہ قابلِ تعریف تھا اور وہ ہمیشہ سے ہمارے لیے کلیدی کردار ادا کرتا آیا ہے۔ جب بھی ہمیں اْس کی ضرورت ہوتی ہے، جب بھی ہم چاہتے ہیں کہ کوئی فیصلہ کن وار کیا جائے، وہ ہمیشہ آگے ہوتا ہے۔ اس سیریز میں بھی ایسا ہی ہوا۔ اْس نے بہترین کارکردگی دکھائی، لیکن اسے وہ ستائش نہیں ملی جس کا وہ حقدار ہے۔ اس سیریز میں سراج سب سے نمایاں بولر رہے، جبکہ جسپریت بمراہ صرف تین میچ کھیل سکے، کیونکہ آسٹریلیا کے خلاف سڈنی ٹسٹ میں کمرکی چوٹ کے بعد اْن کے بوجھ کو قابو میں رکھنے کے لیے آرام دیا گیا۔ بمراہ نے تین میچوں میں 14 وکٹیں حاصل کیں، جن میں دو بار پانچ پانچ وکٹیں شامل ہیں۔ تنڈولکر نے بمراہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جن ٹسٹ میچوں میں وہ شامل نہیں تھے اور ہندوستان جیتا، یہ محض ایک اتفاق ہے۔مجھے معلوم ہے کہ لوگ کئی باتیں کر رہے ہیں کہ جن ٹسٹ میچوں میں وہ نہیں کھیلے، وہ ہم جیتے وغیرہ۔ میرے نزدیک یہ محض ایک اتفاق ہے۔