ریاست میں تنظیمی سرگرمیوں میں اضافہ ، ججس ، آئی اے ایس ، آئی پی ایس عہدیداران اور فلمی ستاروں کے ساتھ اجلاس
حیدرآباد۔یکم۔فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے اور سرسنچالک موہن بھاگوت نے اپنے دو روزہ دورۂ حیدرآباد کے دوران ججس کے علاوہ آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے خطاب کیا اور آر ایس ایس کے مقاصد بالخصوص 100 سال پر محیط سفر کے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے آر ایس ایس کے نظریات سے واقف کروایا۔ شہر حیدرآباد میں منعقد ہ اس پروگرام کے بعد موہن بھاگوت نے شہر حیدرآباد کے پاش علاقہ میں واقع تلگو فلم پروڈیوسر دگو باٹی وینکٹیش کے مکان پر تلگو فلم صنعت کی اہم سرکردہ شخصیات سے ملاقات کی ۔تلنگانہ میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں ہونے والے اضافہ بالخصوص ججس ‘ آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں سے موہن بھاگوت کی ملاقات اور تقریب کا انعقاد اور اس کے بعد تلگو فلم صنعت کی سرکردہ شخصیات سے ملاقات کے بعد مختلف گوشوں کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ ریاست تلنگانہ کو آر ایس ایس جنوبی ہند میں اپنے استحکام کے لئے باب الداخلہ تصور کر نے لگی ہے ۔ذرائع کے مطابق تلگو فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات جنہوں نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کی ہے ان میں کئی ہیرو ‘ ہیروئین‘ فلم پروڈیوسرس‘ کے علاوہ سرمایہ کار اور بعض سیاستدانوں کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔بند کمرے میں ہونے والی اس بات چیت کے سلسلہ میں تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش پر محض یہ کہتے ہوئے اسے نظرانداز کردیا گیا کہ یہ کوئی سیاسی یا نظریاتی ملاقات نہیں تھی بلکہ موہن بھاگوت نے محض خیرسگالی ملاقات کی جو کہ دگوباٹی وینکٹیش کے مکان پر ہوئی۔’جل وہار‘ ٹینک بنڈ پر منعقد ہونے والے آر ایس ایس کے پروگرام جس میں ججس ‘ آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں نے شرکت کی اس پروگرام کو رکن راجیہ سبھا مسٹر وی وجیندر پرساد نے منعقد کیاتھا جو کہ 90 منٹ کا سیشن تھا اور اس سیشن کے دوران آر ایس ایس سربراہ نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے ملک میں آر ایس ایس کے وجوداور اس کی خدمات کے متعلق واقف کروایا ۔پڑوسی ریاست آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے رکن راجیہ سبھا وی وجیندر پرساد جو کہ صدرجمہوریہ کے کوٹہ میں راجیہ سبھا کے لئے نامزد ہوئے ہیں نے اس پروگرام میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ذرائع کے مطابق 31 جنوری کو منعقد ہ پروگرام کے بعد شام کے وقت تلگو فلم صنعت کے زائد 140 اہم شخصیات نے موہن بھاگوت سے ملاقات کی او ر مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور داعی و منتظمین کی جانب سے اس ملاقات کو خیر سگالی ملاقات قراردیتے ہوئے اسے کسی بھی طرح کی سیاست سے جوڑنے سے گریز کا مشورہ دیا جانے لگا ہے ۔3