بیجنگ : ہندوستان اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں اپریل۔مئی میں زبردست تصادم شروع ہوا تھا اس کے بعد مختلف سطحوں پر متعدد مذاکرات ہوئے، لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ امید کی کرن اب بھی باقی ہے۔گذشتہ کچھ مہینوں سے مشرقی لداخ میں ہندوستان اور چین کے مابین ہر سطح کے کور کمانڈر کی بات چیت بے نتیجہ ثابت رہی ہے۔ بالخصوص پیر کو 14 گھنٹے کے طویل میراتھن بات چیت کے باوجود کسی ٹھوس نتیجہ پر نہیں پہنچا جا سکا۔ذرائع کے مطابق مشرقی لداخ، پینگانک جھیل، دیپسانگ اور ہاٹ اسپرنگ علاقے سے چینی فوج کے نہ ہٹنے کی ضد نے ہر طرح کے ڈس انگیجمنٹ کے طور طریق کو ختم کر دیا۔مزید یہ کہ چینی فوج کا مطالبہ تھا کہ بھارتی فوج حالیہ قبضہ کیے گئے پینگانگ تسو کے جنوبی کنارے سے دستبردار ہو جائے، جو کسی بھی صورت میں بھارت کو قبول نہیں ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ 15 دنوں کی مشترکہ میٹنگ کے باوجود کسی نتیجے تک پہنچنے میں کچھ بھی کامیابی حاصل نہیں ملی ہے۔اب جبکہ بات چیت کے تمام مکینزم ختم ہو چکے ہیں، تو ایسی صورت میں ایک ہی راستہ ہے، جس سے مسئلے کا حل ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے اعلی سیاسی رہنما اپنی سطح پر بات چیت کے ذریعہ مسئلے کے حل کی کوشش کریں۔