سرحد پر امن کے باوجود ہندوستان موردالزام

   

Ferty9 Clinic


کشیدگی کیلئے ہم ذمہ دار نہیں ، بات چیت کرنا چاہتے ہیں : چین

نئی دہلی : ہندوستان، لداخ میں پانگ گانگسو کے بعد بقیہ علاقوں سے بھی فوجی دستوں کو جلد از جلد ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہے، لیکن اس دوران چین نے حوصلہ شکن بیان دیتے ہوئے پھر ایک بار تلخی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ روز چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ کے موقف کا اعادہ کیا کہ سرحدی مسئلہ باہمی رشتے کا مکمل عکاس نہیں اور دونوں ملکوں کو کسی بھی تنازعہ کی یکسوئی کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرحد پر حالیہ کشیدگی کیلئے چین نہیں بلکہ ہندوستان ذمہ دار رہا ہے۔ وہ اپنی سالانہ پریس کانفرنس سے مخاطب تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور چین تمام تر حالیہ اختلافات اور کشیدگی کے باوجود حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہیں۔ تاہم وانگ نے گزشتہ سال کی شدید سرحدی جھڑپ کیلئے ہندوستان کو موردالزام ٹھہرایا اور کہا کہ اب وقت کی ضرورت بات چیت کے ذریعہ مسائل حل کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وانگ نے دعویٰ کیا کہ سرحد پر جو کچھ ہوا، اس میں صحیح اور غلط بالکلیہ واضح ہے۔ وانگ نے حال ہی میں وزیر اُمور خارجہ ایس جئے شنکر سے بات چیت کی تھی، تب بھی انہوں نے اس نکتہ پر زور دیا تھا کہ باہمی روابط کو سرحد پر کشیدگی سے ہمیشہ مربوط نہیں کیا جاسکتا۔ واضح رہے کہ جئے شنکر نے کہا تھا کہ چین کی طرف سے جارحانہ نقل و حرکت نے سرحد پر مسائل پیدا کئے۔ وانگ نے کہا کہ اب دونوں فریقوں کو ایک دوسرے پر الزام آرائی کو چھوڑ کر ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں شبہ کے ماحول کو بڑھاوا نہیں دینا چاہئے بلکہ کھلے ذہن کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے۔ سرحد پر امن و بھائی چارہ کوئی ایک نہیں بلکہ دونوں فریقوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔