واشنگٹن: امریکہ نے جمعرات کو روس کے ساتھ قیدیوں کے ایک تاریخی تبادلے کی تصدیق کی ہے جس میں وال اسٹریٹ جرنل سے وابستہ امریکی صحافیوں ایون گرشکووچ اور السو کرماشیوا، سابق امریکی میرین پال وہیلن اور امریکہ کے مستقل رہائشی ولادیمیر کارا مرزا کی رہائی شامل ہے۔امریکہ اور روس کے درمیان قیدوں کے تبادلے کے معاہدے کے بعد جو صحافی روسی قید سے رہائی پانے میں کامیاب ہوئے ہیں ان میں یو ایس گلوبل میڈیا سے وابستہ، ریڈیو فری یورپ/ ریڈیو لبرٹی کی ایڈیٹر السو کرماشیوا بھی شامل ہیں۔ امریکہ نے مجموعی طور پر، امریکہ، جرمنی، پولینڈ، ناروے اور سلووینیا میں قید آٹھ روسیوں کے عوض 16 افراد کی رہائی حاصل کی، جن میں غلط طریقے سے گرفتار کئے گئے پانچ جرمن اور سات روسی شہری شامل ہیں۔یہ سرد جنگ کے بعد سے امریکہ اور روس کے درمیان قیدیوں کا سب سے بڑا تبادلہ ہے۔صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاوس سے قوم سے خطاب میں چار امریکیوں کی روس کی قید سے رہائی اور وطن واپسی کو ’سفارتکاری کی فتح‘ قرار دیا ہے۔انہوں نے نے روسی ’’شو ٹرائلز‘‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔بائیڈن نے کہاکہ روسی حکام نے انہیں گرفتار کیا، انہیں شو ٹرائلز میں سزا سنائی اور بغیر کسی جائز وجہ کے انہیں طویل قید کی سزا سنائی۔صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو ان امریکی اتحادیوں کی تعریف کی جنہوں نے بڑے پیمانے پر مشرقی مغربی قیدیوں کے تبادلے میں حصہ لیا۔
گینی کے سابق فوجی حکمران کو 20 سال قید کی سزا
کوناکری: افریقی ملک گینی کی عدالت نے سابق فوجی صدر موسیٰ ڈیڈیس کمارا کو اپنے دورحکومت میں اپوزیشن کیخلاف انسانیت سوز مظالم کے الزام میں 20 سال قید کی سزا سنا دی۔ مغربی افریقہ کے ملک گینی کی عدالت نے 2009 میں دارالحکومت کوناکری کے مضافات میں ایک اسٹیڈیم میں حزب اختلاف کی ایک ریلی پر ہونے والی خون ریز کارروائی کے حوالے سے کیس کی سماعت کی اور دو سال ٹرائل کے بعد اس کا فیصلہ سنا دیا۔اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے مطابق سابق فوجی صدر کی فورسز نے اس کارروائی میں 156 افراد کو ہلاک اور 109 خواتین کی عصمت دری کی تھی۔عدالت نے فیصلے میں جرائم گنوائے جن میں قتل، عصمت دری، تشدد اور اغوا شامل تھے۔