مسجد چوک میں جلسہ ، علماء کرام کا خطاب
حیدرآباد 27 اکٹوبر (فیاکس) حضرت مجدد الف ثانیؒ کی ذات گرامی پر اتباع سنت کا غلبہ تھا۔ ریاضت و مجاہدات کی پابندی آپ کا خاصہ ہے۔ ضیافت و سخاوت کمال درجہ کی تھی۔ جلالت علمی اور فیوضات باطنی میں آپ کی نظیر نہیں۔ تمام اولیاء کرام سے محبت رکھتے تھے۔ 18 سلاسل جاریہ سے فیوض و برکات حاصل فرمائے تھے۔ تمام سلاسل سے خلافت کی نعمت حاصل تھی۔ مولانا حافظ مفتی شاہ محمد حنیف قادری کامل الفقہ جامعہ نظامیہ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ وہ مرکزی انجمن سیف الاسلام کے 46 ویں سالانہ جلسہ یوم مجدد الف ثانی امام ربانی شیخ احمد فاروقی سرہندی نقشبندیؒ سے جامع مسجد چوک میں مخاطب کررہے تھے۔ انھوں نے علماء، محققین کے حوالہ سے کہاکہ اب کوئی دوسرا مجدد الف ثانی نہیں ہوگا۔ مولانا ابو عمار عرفان اللہ شاہ نوری نگران و داعی جلسہ نے کہاکہ اگر جلال الدین اکبر شہنشاہ کے فتنہ بنام ’’دین الٰہی‘‘ کے وقت حضرت مجدد الف ثانی حرکت میں نہ آتے تو آج ہندوستان میں اسلام کی صحیح صورت نہ ہوتی، آپ نے اکبر کے غیر اسلامی دین کے خلاف آواز بلند کی۔ الحاج حکیم غلام محی الدین نقشبندی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ ڈاکٹر حسن محمد نقشبندی نے حیات و خدمات پر روشنی ڈالی۔ مولانا حافظ سلمان سہروردی نے کہاکہ حضرت مجدد الف ثانی فاروقی النسب میں دین کی حفاظت و اشاعت میں فاروقی جلال جھلکتا تھا۔ جلسہ کی کارروائی کا آغاز حافظ و قاری محمد عبدالحئی احمد نقشبندی کی قرأت سے ہوا۔ قاری محمد عاقل پاشاہ نے نعت اور حافظ و قاری محمود حسین نقشبندی نے منقبت پیش کی۔ قاری مسعود پاشاہ قادری چشتی، مولانا صوفی احمد اللہ اقبال قادری، مولانا صوفی سیف احمد قادری شاہ ولی اللہی، مولانا ڈاکٹر شاہ محمد عمادالدین انور نقشبندی، مولانا حافظ سید اصغر شرفی، الحاج پیر غلام محمد غوث پاشاہ نقشبندی، مولانا محمد عظیم الدین چندا شاہ قادری نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔