پان ، گٹکھا اور چیونگم پر پابندی لازمی ، ریاست ہریانہ کے طرز پر تلنگانہ میں اقدامات ناگزیر
حیدرآباد۔2اپریل (سیاست نیوز) تھوکنے سے بھی کورونا وائرس کے اثرات دوسروں کو شکار بنا سکتے ہیں ۔ کورونا وائرس کی وباء سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے حکومتوں کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اب جبکہ صورتحال بتدریج ابتر ہوتی جا رہی ہے ایسی صورت میں کئی ریاستو ںمیں پان گھٹکا اور چیونگ گم پر بھی پابندی عائد کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہا کہ سڑکوں پر تھوکنے اور سرعام تھوکنے کے سبب کوروناوائرس کے جراثیم دوسروں میں منتقل ہوسکتے ہیں اسی لئے ان کے استعمال کو ترک کرنے میں ہی خود کی اور شہریوں کی عافیت ہے۔ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد ریاستی حکومتوں کی جانب سے بھی احتیاطی اقدامات کے طور پر کئی اہم فیصلے کئے جا رہے ہیں اور ان ہی فیصلوں کے تحت ہریانہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے 30 جون تک چیونگم کے استعمال پر بھی پابندی عائد کردی ہے ۔ریاست تلنگانہ میں پان ‘ گٹکھا یا کسی اور شئے پر اب تک ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے بلکہ لاک ڈاؤن کی مدت میں پان ‘ گٹکھا اور دیگر پان مسالوں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور وہ بھاری قیمتوں میں اسے فروخت کر رہے ہیں۔ریاست تلنگانہ میں گٹکھا اور تمباکو پر امتناع عائد ہے لیکن اس کی برسر عام فروخت کی جاتی رہی ہے اور ب لاک ڈاؤن کی صور ت میں بھی تمام تمباکو کی اشیاء بہ آسانی دستیاب ہورہی ہیں لیکن ان کی قیمتوں میں بھاری اضافہ دیکھا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ دیگر ریاستوں میں تیار ہوتے ہوئے شہر حیدرآباد پہنچنے والی اشیاء نہ پہنچنے کے سبب قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے ۔ریاستی حکومت کو بھی ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں کی طرح فوری اقدامات کرنے چاہئے ۔