مودی حکومت کووڈ۔19اور کسانوں کے احتجاج پر مباحثہ سے دامن چھڑاناچاہتی ہے : این سی پی
ممبئی : نیشنلسٹ کانگریس پارٹی ( این سی پی ) نے مرکزی حکومت کو پارلیمنٹ کا سرمائی سیشن منعقد نہ کرنے پر شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا جس کے لئے مرکزی حکومت نے کووڈ۔19 کو سرمائی سیشن کے عدم انعقاد کی وجہ بتایا ہے ، تاہم این سی پی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مبینہ طور پر دارالحکومت میں گجرات ماڈل کا نفاذ کررہے ہیں ۔ این سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک نے الزام عائد کیا کہ سرمائی سیشن کا انعقاد صرف اس لئے نہیں کیا جارہا ہے کہ مودی حکومت کووڈ ۔19 اور کسانوں کے احتجاج پر مباحثہ سے دامن بچانا چاہتی ہے جو یقینی طور پر سرمائی سیشن کے اہم مدعے ہوتے ہیں لہذا عدم انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے اپوزیشن کا منہ بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حکومت کی یہ تاویل کہ سرمائی سیشن کی بجائے راست طور پر اب بجٹ سیشن کا ہی انعقاد ہوگا ، ناقابل فہم ہے ۔ یہ بات اب یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ وزیراعظم دارالحکومت میں بھی گجرات ماڈل کا اطلاق کررہے ہیں ۔ نواب ملک نے کہا کہ جس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو اس وقت بھی وہ ودھان سبھا کے سیشنوں کو نظرانداز کردیا کرتے تھے اور یہی وطیرہ انہوں نے دارالحکومت میں بھی اپنا رکھا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت ہے ۔ پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کے عدم انعقاد کا اعلان دریں اثناء مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور پرہلاد جوشی نے کہا ہے کہ انہوں نے متعدد سیاسی جماعتوں کے فلور لیڈروں سے رابطے کئے ہیں اور اُن تمام نے کووڈ ۔19 کے تحت اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی ہے کہ احتیاطی اقدامات کے طور پر اگر اس بار پارلیمنٹ کا سرمائی سیشن منعقد نہ کیا جائے تو بہتر ہوگا ۔ وزیر موصوف نے یہ بات ایک مکتوب میں بھی تحریر کی ہے ۔ یاد رہے کہ ادھیررنجن چودھری نے 3 ڈسمبر کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مختصر سرمائی سیشن کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی تھی جبکہ منگل کے رو ز مسٹر جوشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر مدعے پر مباحثہ کیلئے تیار ہے اور اس کیلئے بجٹ سیشن کا مکمل انعقاد کیا جانا چاہیئے ۔ مسٹر جوشی نے مزید کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بجٹ سیشن کی مدت میں کوئی کٹوتی نہ کی جائے اور حکومت مباحثہ کرنے تیار ہے جو کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں ایوان میں اٹھانا چاہتی ہیں ۔
