سرپنچ عہدوں کی نیلامی کا کلچر ، جمہوریت کا مذاق ۔ ڈی شراون

   

یہی رجحان فروغ پایا تو ووٹروں کیلئے نوٹ اور عہدوں کیلئے تھیلے کی سوچ مضبوط ہوگی
حیدرآباد : /28 نومبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ایم ایل سی داموجی شراون نے تلنگانہ کے مختلف دیہاتوں میں سرپنچ عہدوں کیلئے روایتی جمہوری انتخابات کی جگہ ’’نیلامی‘‘ جیسی غیرجمہوری سرگرمیوں کے فروغ پانے پر تشویش کا اظہار کیا ۔ داموجی شراون نے کہا کہ مقامی سطح پر شکایتیں سامنے آرہی ہیں کہ کئی گرام پنچایتوں میں امیدواروں کے مقابلے بولی دہندگان کو ترجیح دی جارہی ہے اور سرپنچ عہدے انتخاب کے بجائے سب سے زیادہ بولی کی بنیاد پر طئے کئے جارہے ہیں ۔ بی آر ایس کے ایم ایل سی نے کہا کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل میں ایم ایل اے اور ایم پی نشستیں بھی ’’ای آکشن‘‘ کے ذریعہ نیلام کرنے کی باتیں مذاق نہیں رہیں گے ۔ اس طرح کے غیر رسمی معاہدے جمہوری اصولوں کے خلاف ہے اور انتخابی عمل کو کاروباری لین دین میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے ۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ نیلامی کی روایت جڑپکڑنے لگی تو یہ نہ انتخابی مہم کی ضرورت رہیگی اور نہ ہی ووٹنگ کیلئے قطاریں لگیں گی ۔ اور نہ ہی پولنگ بوتھ ، ای وی ایم انتخابی عملہ یا سیکوریٹی کی ضرورت پڑے گی ۔ ایسی صورت میں سب سے زیادہ بولی لگانے والا امیدوار منتخب نمائندہ بن جائیگا ۔جس سے جمہوری نظام محض کاغذی کارروائی تک محدود ہوکر رہ جائے گا ۔ بی آر ایس کے ایم ایل سی داموجی شراون نے کہا کہ اگر عہدوں کی قیمت طئے کی جانے لگے تو جمہوری اقدار ، عوامی نمائندگی اور سماجی مساوات بھی بری طرح متاثر ہوں گے ۔ یہی رجحان آگے بڑھا تو ووٹروں کیلئے نوٹ اور عہدوں کیلئے تھیلے کی سوچ مضبوط ہوگی جس سے عوامی اعتماد کو شدید دھچکا لگے گا ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ الیکشن پر بولی کو فروغ کی سرگرمیوں کا سخت نوٹ لیں ۔ اس کلچر کو فروغ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ جمہوریت کا وقار اور شفافیت برقرار رہے ۔ 2