سرکاری اراضیات فروخت کرنے کے بجائے بے گھر غریبوں میں تقسیم کی جائیں

   

سی پی آئی کا دھرنا، چاڈا وینکٹ ریڈی اور عزیز پاشاہ کا احتجاجیوں سے خطاب
حیدرآباد۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے سرکاری اراضیات کی فروخت کی مخالفت کرتے ہوئے تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل انفرااسٹرکچر کارپوریشن کے دفتر کے روبرو دھرنا منظم کیا۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی، سابق رکن راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ کے علاوہ سی پی آئی حیدرآباد ڈسٹرکٹ سکریٹری ای ٹی نرسمہا اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔ بشیرباغ میں واقع کارپوریشن کے دفتر کے روبرو سی پی آئی کارکنوں نے سرکاری اراضیات کی فروخت کے بجائے غریبوں میں تقسیم کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7 برسوں میں حکومت نے گریٹر حیدرآباد میں ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا لیکن چند ہزار مکانات تعمیر کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضیات کی فروخت کے بجائے بے زمین غریبوں میں اراضی تقسیم کی جائے۔ چاڈا وینکٹ ریڈی نے کہا کہ سرکاری اراضیات چیف منسٹر کی جاگیر نہیں ہیں کہ انہیں من مانی طریقہ پر فروخت کردیا جائے۔ انہوں نے اراضیات کی فروخت کے لئے طئے شدہ ہراج فوری منسوخ کرنے کی مانگ کی۔ سی پی آئی کارکنوں کے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھے اور وہ اراضیات کی فروخت کو روکنے اور غریب افراد میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگارہے تھے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ جیسی دولت مند ریاست میں سرکاری اراضیات کی فروخت انتہائی بدبختانہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے کئی لاکھ کروڑ قرض حاصل کرلیا ہے اور وہ ادائیگی کے موقف میں نہیں ہے۔ سرکاری اراضیات اور اثاثہ جات کی فروخت کے ذریعہ حکومت قرض کے بوجھ کو کم کرنا چاہتی ہے۔ سرکاری خزانہ خالی ہے اور عوامی بھلائی کے کام ٹھپ ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ریاست کو قرض کے بوجھ تلے دبادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضیات کو صرف عوامی اغراض کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے اور حکومت کو فروخت کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے حکومت کو انتباہ دیا کہ سی پی آئی اس فیصلہ کے خلاف ایجی ٹیشن میں شدت پیدا کرے گی۔ سی پی آئی کے قومی ایکزیکیٹو ممبر اور سابق رکن راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ نے سوال کیا کہ غریبوں کے مفادات کے تحفظ کے بغیر حکومت کس طرح سرکاری اراضیات فروخت کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاضل اراضیات بے زمین غریب خاندانوں میں تقسیم کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کو سلم سے پاک شہر میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کرنے والی حکومت سرکاری اراضیات کی فروخت کے ذریعہ اپنے دعویٰ کو غلط ثابت کررہی ہے۔ اکٹوبر 2015 میں ڈبل بیڈ روم مکانات کی اسکیم کا اعلان کیا گیا لیکن آج تک بہ مشکل 25 فیصد مکان تعمیر کئے گئے۔ سی پی آئی کے قائدین آر شنکر، ایس اے منان، این سریکانت، پی نرسمہا ، ایم انیل کمار، بی اسٹالن، آر ملیش، صلاح الدین، اے راجکمار، شیخ ندیم، شیخ محمود اور دوسروں نے دھرنے میں حصہ لیا۔