سرکاری اراضیات و اثاثہ جات کو بچانے حیڈرا کی چستی و پھرتی

   

وقف اراضی کے تحفظ پر مسلسل نمائندگی کے باوجود افسوسناک پہلوتہی کا مظاہرہ
حیدرآباد۔31۔ڈسمبر(سیاست نیوز) سرکاری اثاثہ جات پرکئے جانے والے قبضہ جات کو برخواست کرنے اور انہیں محفوظ بنانے کے لئے جب ’حیڈرا‘ کی مدد سے کاروائی کی جاسکتی ہے تو کیو ں موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کے لئے ’حیڈرا‘ کی مدد سے کاروائی کرنے کے بجائے اجلاسوں اور پولیس میںشکایات درج کروانے پر اکتفاء کیا جاتا ہے!تلنگانہ میں منادر کی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی جائیدادوں پر کئے جانے والے قبضہ جات کی برخواستگی کے سلسلہ میں محکمہ انڈومنٹ کی جانب سے’حیڈرا‘کی مدد حاصل کی جار ہی ہے جبکہ تلنگانہ وقف بورڈ شہرحیدرآباد کے نواحی علاقہ میں عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ میں موجود اپنی اراضی پر کئے جانے والے قبضہ جات پر محض دوروں اور شکایات پر اکتفاء کئے ہوئے ہے۔ حکومت تلنگانہ نے آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں موجود سرکاری اثاثہ جات ‘ پارکس ‘ فٹ پاتھس کے علاوہ اراضیات پر کئے جانے والے قبضہ جات کو برخواست کروانے کے لئے ’حیڈرا‘کا قیام عمل میں لایا گیالیکن عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی اراضی پر کئے جانے والے قبضہ جات کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی کے بجائے شکایات درج کروانے کی بات کی جا رہی ہے جبکہ اگر تلنگانہ وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود ’حیڈرا‘کی مدد حاصل کرتے ہوئے گذشتہ ایک ماہ کے دوران کئے گئے قبضہ جات کی برخواستگی کے سلسلہ میں کاروائی کا آغاز کرتا ہے تو ایسی صورت میں عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی موقوفہ اراضی پر قبضوں کو فوری طور پر روکا جاسکتا ہے ۔ عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی موقوفہ اراضی کے قانونی موقف کے متعلق استفسار اور قابضین سے بات چیت کرنے کے بجائے اگر محکمہ اقلیتی بہبود انڈومنٹ کے طرز پر ’حیڈرا‘کی مدد حاصل کرنے کے اقدامات کرتا ہے اور پولیس میں شکایات کروانے کے بجائے ’حیڈرا‘کے عہدیداروں کے ہمراہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے اس اراضی کے تحفظ کویقینی بنایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی اراضی کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں کیونکہ عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی اراضی پر جاری قبضہ جات وقف بورڈ کے ’چوکیداروں‘ کی موجودگی میں کئے جانے والے قبضہ جات ہیں اگر ’حیڈرا‘کی جانب سے تالابوں کے تحفظ کے لئے جس طرح سے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی گئی تھی اگر اسی طرح وقف بورڈ کی جانب سے عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنانے کے لئے سی سی ٹی وی کی نگرانی کے علاوہ چوکیداروں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ’حیڈرا‘کی مدد حاصل کرتے ہوئے قبضہ جات کو برخواست کیا جاتا ہے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔چند ماہ قبل ریاستی وزیر ہندو اوقاف محترمہ کونڈا سریکھا نے منادر کے تحت موجود جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں ’حیڈرا‘کے عہدیداروں سے مدد طلب کرتے ہوئے انہیں منادر کی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت دی تھی اگر محکمہ اقلیتی بہبود بھی فوری طور پر ’عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ ‘ کی موقوفہ اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں کاروائی کے لئے ’حیڈرا‘ کی کاروائی کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں سنجیدہ اقدامات نظر آئیں گے۔3