مستقبل میں قبرستان کیلئے جگہ نہیں رہے گی، کانگریس قائدین کا الزام
حیدرآباد۔ کانگریس پارٹی نے حکومت کی جانب سے سرکاری اراضیات کی فروخت کے فیصلہ کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ پارٹی نے سرکاری اراضیات کی فروخت کے بجائے دیگر وسائل سے آمدنی میں اضافہ کی مساعی کا مشورہ دیا۔ رکن اسمبلی ڈی سریدھر بابو نے اراضیات کی فروخت سے متعلق احکامات فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری سرکاری اراضیات اور اثاثہ جات کا تحفظ کرنا ہے۔ اگر حکومت ہی اراضیات کو فروخت کرنے لگ جائے تو پھر یہ سلسلہ کہاں جاکر رُکے گا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اراضیات کی محافظ ہوتی ہے لیکن ٹی آر ایس حکومت فروخت کنندہ کا رول ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں ٹی آر ایس نے فاضل اراضیات کی فروخت کی مخالفت کی تھی لیکن آج وہی حکومت میں آنے کے بعد اراضیات کا ہراج کررہی ہے۔ اسی دوران سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے اراضیات کی فروخت فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں تدفین اور آخری رسومات کیلئے بھی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلوں کیلئے حکومت مسائل پیدا کررہی ہے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ اگر سابقہ حکومتیں اراضیات فروخت کرتیں تو آج ایک بھی سرکاری زمین باقی نہ ہوتی۔ انہوں نے حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتوں سے متحدہ جدوجہد کی اپیل کی۔ انہوں نے پنجہ گٹہ کے علاقہ میں راجیو گاندھی کے مجسمہ کی تنصیب میں رکاوٹ پر اعتراض جتایا کہ 2019 میں ضبط کئے گئے مجسمہ کو فوری واپس کیا جائے اور موجودہ مقام پر تنصیب عمل میں لائی جائے۔