سرکاری ارا ضیات پر قبضوں کو باقاعدہ بنانے اسکیم پر جلد عمل آوری

   


کابینہ میں قطعی فیصلہ کا امکان، جی او 58 اور 59 کے تحت 4 لاکھ سے زائد درخواستیں زیر التواء
حیدرآباد ۔یکم ستمبر (سیاست نیوز) سرکاری اراضیات پر قبضوں کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم پر جلد عمل کا امکان ہے اور چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ دسہرہ کے موقع پر اسکیم کے استفادہ کنندگان کیلئے پٹہ جات جاری کرسکتے ہیں۔ 2015 سے اراضیات پر قبضوں کو باقاعدہ بنانے اسکیم کے تحت لاکھوں درخواستیں وصول کی گئیں لیکن مختلف وجوہات کے سبب یکسوئی نہیں کی جاسکی۔ ریاست کے مالی بحران کے پیش نظر حکومت نے ایک طرف سرکاری اراضیات کی فروخت کا آغاز کیا ہے تو دوسری طرف غیر اہم سرکاری اراضیات پر ناجائز قبضوں کو باقاعدہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دونوں اسکیمات پر عمل سے سرکاری خزانہ میں بھاری رقومات جمع ہوسکتی ہیں۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ 3 ستمبر کے کابینی اجلاس میں اہم فیصلہ کرسکتے ہیں۔ 2015 ء سے ایل آر ایس اسکیم کے تحت موصولہ درخواستوں کی یکسوئی کو ترجیح دی جائیگی۔ واضح رہے کہ تلنگانہ کے قیام کے ایک سال بعد چیف منسٹر نے اراضیات کو باقاعدہ بنانے دو علحدہ جی او جاری کئے تھے۔ تشکیل تلنگانہ سے قبل سرکاری اراضیات پر قابض افراد کو اراضی کی ملکیت دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ 2015 ء میں جی او 58 کے تحت جملہ 3.46 لاکھ درخواستیں داخل کی گئیں جبکہ جی او 59 کے تحت 48394 درخواستیں داخل کی گئیں۔ جی او 58 کے تحت 2.54 لاکھ درخواستیں زیر التواء ہیں۔ اس کے تحت سطح غربت سے نیچے زندگی گذارنے والے خاندانوں کو 125 مربع گز تک مفت میں اراضی الاٹ کی جائے گی۔ جی او 59 کے تحت 31329 درخواستیں زیر التواء ہیں اور اس اسکیم کے تحت موجودہ مارکٹ ویلیو کے مطابق رقم حاصل کرکے باقاعدہ بنایا جائیگا ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دونوں جی او کے تحت موصولہ درخواستوں کی جانچ کا کام ہوچکا ہے اور اسکیم پر عمل سے متعلق فائل منظوری کیلئے چیف منسٹر کے پاس موجود ہے۔ محکمہ مال کے عہدیداروں سے مشاورت کے بعد فائل کو کابینہ میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ ر