آئندہ کابینہ اجلاس میں منظوری ہوگی، اسمبلی حلقہ کے ترقیاتی فنڈس سے ترقی، سبیتا اندرا ریڈی
حیدرآباد۔ 22 ڈسمبر (سیاست نیوز) ریاست کے سرکاری اسکولس میں نئے کلاس رومس، بیت الخلاؤں اور اسکولس کی باؤنڈری وال کے علاوہ دیگر بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی کی میڈیا میں شکایتیں وصول ہونے اور والدین اور سرپرستوں کی برہمی کا حکومت نے سخت نوٹ لیا ہے اور سرکاری اسکولس میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے جنگی خطوط پر اقدامات کرنیکی محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے۔ ریاستی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ ریاست کے سرکاری اسکولس میں نئے کلاس رومس، بیت الخلاؤں کی تعمیرات کے ساتھ دوسری بنیادی سہوتوں کی فراہمی کے لئے 4 ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کا خصوصی پراجکٹ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تیار کردہ نئے پراجکٹ پر آئندہ منعقد ہونے والے کابینہ اجلاس میں غور و خوض کرتے ہوئے منظوری دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کو حلقہ کی ترقی کے لئے جو فنڈس جاری کئے جارہے ہیں اُن فنڈس میں 50 فیصد فنڈس اسکولس کی ترقی پر خرچ کئے جائیں گے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ ریاست کے 600 اقامتی اسکولس اور 300 کے جی بی ویز جونیر کالجس کو اپ گریڈ کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مختلف مقامات سے جونیر کالجس قائم کرنے کے مطالبات کئے جارہے ہیں۔ ان مطالبات کو چیف منسٹر کے سی آر سے رجوع کرتے ہوئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ ن