سرکاری اسکولس میں تقریبا 20 ہزار ٹیچرس کی قلت

   

جاریہ سال 2.5 لاکھ طلبہ نے سرکاری اسکولس میں داخلہ لیا ، ریسلائیزیشن عمل کا آغاز نہیں ہوا
حیدرآباد ۔ 12 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : کورونا بحران کی وجہ سے ایک طرف جہاں اسکولس میں طلبہ کی تعلیم متاثر رہی وہیں اب محکمہ تعلیم کی غفلت اور لاپرواہی طلبہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہورہی ہے ۔ جن سرکاری اسکولس میں ٹیچرس کی قلت ہے ۔ وہاں ریگولر ٹیچر تو دور کم از کم ودیا والینٹرس کا بھی حکومت کی جانب سے تقرر نہیں کیا جارہا ہے ۔ جس سے ریاست کے سینکڑوں سرکاری اسکولس میں طلبہ کی تعلیم پر اثر پڑرہا ہے ۔ کوویڈ سے معاشی بحران کا شکار ہونے کے بعد والدین خانگی اسکولس کی فیس برداشت نہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کو بڑے پیمانے پر سرکاری اسکولس میں داخلہ دلوایا ہے ۔ تقریبا ڈھائی لاکھ طلبہ ریاست کے مختلف سرکاری اسکولس میں داخلہ لے چکے ہیں ۔ پہلے سے ہی اساتذہ کی ہزاروں جائیدادیں مخلوعہ ہیں 2.5 لاکھ نئے طلبہ کے داخلہ لینے سے سرکاری اسکولس میں 15 تا 20 ہزار ٹیچرس کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔ حکومت فوری اقدامات کرتے ہوئے پہلے ہی ٹیچرس کے تقررات کرتی تو سرکاری اسکولس کی ریاست میں عظمت رفتہ بحال ہوتی تھی ۔ سال 2020 مارچ تک ریاست میں خدمات انجام دینے والے تقریبا 12 ہزار ودیا والینٹرس کی خدمات سے دوبارہ استفادہ نہیں کیا گیا ۔ سرکاری اسکولس میں جہاں طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ وہیں ٹیچرس کی قلت بھی بڑی شدت سے محسوس کی جارہی ہے ۔ ریسلائیزیشن کے کام کا بھی آغاز نہیں ہوا ہے ۔ اگر یہ ہوجاتا تو جن اضلاع کے اسکولس میں ٹیچرس کی کمی ہے ۔ وہاں ٹیچرس کو روانہ کرنے کی سہولت ہوجاتی تھی ۔ فزیکل کلاسیس کا آغاز ہو کر دو ماہ مکمل ہوچکے ہیں مگر ابھی تک اس عمل کا آغاز نہیں ہوا ہے ۔ سرکاری اسکولس پر بھروسہ کرتے ہوئے خانگی اسکولس سے سرکاری اسکولس میں داخلہ لینے والے طلبہ معیاری تعلیم سے محروم ہورہے ہیں ۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو طلبہ تعلیمی صلاحیتوں سے محروم ہوسکتے ہیں ۔ ریاست میں 26,285 سرکاری اسکولس ہیں جن میں (1-10) تک 22.61 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ مخلوعہ جائیدادیں 15 تا 20 ہزار ہیں ۔۔ ن