جی ایچ ایم سی حدود کے سرکاری اسکولس میں جگہ کی قلت
حیدرآباد۔/15 ستمبر، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کے سرکاری مدارس میں داخلوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔اسکولس کی کشادگی اور داخلوں کے آغاز کے فیصلہ کے بعد خانگی اسکولس میں زیر تعلیم طلبہ کی کثیر تعداد سرکاری مدارس کا رُخ کررہی ہے۔ سال 2021022 میں 40 تا50 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چند مقامات پر اسکولس کی ناکافی جگہ اور کلاس رومس کی کمی کے سبب داخلوں کو روک دیا گیا۔ سرکاری اسکولس میں بڑھتے داخلوں کے رجحان پر عہدیدار بھی حیرت کا شکار ہیں۔ خانگی اسکولس کی من مانی اور عملہ کی کمی کے سبب اولیائے طلبہ سرکاری اسکولس کا رُخ کررہے ہیں۔ طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی سال کو رائیگاں ہوتا دیکھ کر بھی سرکاری اسکولس میں داخلہ کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی ، بے روزگاری اور کاروبار سے محروم افراد فیس ادائیگی کے موقف میں نہیں ہیں۔ ان حالات کو بھی سرکاری اسکولس میں داخلوں کی ایک وجہ مانا جارہا ہے۔ شہر کے اولڈ نلہ گٹہ میں واقع ایک سرکاری اسکول میں جاریہ سال 400 طلبہ کا داخلہ ہوا۔ جن میں 90 فیصد خانگی اسکولس سے سرکاری اسکولس میں شریک ہوئی ہیں جبکہ کنڈا پور ضلع پریشد ہائی اسکول میں چھٹویں تا دسویں جماعت70 طلبہ کو داخلہ دیا گیا۔ جن میں 50 طلبہ خانگی اسکولس سے داخل ہوئے ہیں۔ حیدرآباد، میڑچل اور رنگاریڈی اضلاع میں سرکاری مقامی ادارے، ریسیڈنشیل، کے جی بی وی ، ماڈل کیٹگری میں 2508 اسکولس ہیں۔ جولائی سے ان اسکولس میں داخلوں کا آغاز ہوا۔ A