نصاب کی عدم تکمیل، آن لائین کلاسس ناکافی، ٹیچرس کو شکایت
حیدرآباد: تلنگانہ کے سرکاری اسکولوں اور کالجس میں جاریہ تعلیمی سال میں توسیع کا امکان ہے۔ تعلیمی سال 2020-21 کو کم از کم تین ماہ توسیع دینے کا منصوبہ ہے ۔ کورونا وباء کے پیش نظر 10 تعلیمی ماہ کے بشمول 7 ماہ ضائع ہوچکے ہیں۔ گورنمنٹ جونیئر کالجس اور ہائی اسکولس کے ٹیچرس کا کہنا ہے کہ طلبہ کیلئے آن لائین کلاسس نصاب کی تکمیل کیلئے کافی نہیں ہے۔ سی بی ایس ای گائیڈ لائینس کے مطابق نصاب کو گھٹاکر 70 فیصد کردیا گیا ۔ ٹیچرس کا کہنا ہے کہ نصاب کی کمی کے باوجود طلبہ کو 120 تا 150 ایام کار درکار ہونگے۔ یکم فروری تک جاریہ تعلیمی سال کے تقریباً 200 ایام کار ضائع ہوچکے ہیں۔ اگر نصاب کو گھٹاکر 70 فیصد کیا گیا تب بھی 4 ماہ کے عرصہ میں نصاب کی تکمیل کسی چیلنج سے کم نہیں۔ تلنگانہ اسٹیٹ جونیئر لکچررس اسوسی ایشن کے صدر مدھوسدن ریڈی نے تعلیمی سال میں توسیع کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو امتحانات کی تیاری کیلئے کم از کم دو ہفتے دیئے جانے چاہئیں ۔ امتحانات و نتائج کیلئے تقریباً 40 دن درکار ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی سال میں توسیع کا اثر آئندہ تعلیمی سال پر پڑسکتا ہے اور داخلوں میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ دسویں جماعت طلبہ کیلئے مستقبل کا اہم موڑ ہوتی ہے۔ لہذا ٹیچرس کو 70 فیصد نصاب کی تکمیل کیلئے جدوجہد کرنی پڑیگی ۔ ٹیچرس فیڈریشن کا ماننا ہے کہ گرما میں مکمل کلاسس کے باوجود 70 فیصد نصاب کی تکمیل ممکن نہیں ہے۔ محکمہ تعلیم نے امتحانات کا شیڈول ابھی جاری نہیں کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکولوں میں کلاسس کے آغاز کے بعد شیڈول طئے کیا جائیگا۔ خانگی اسکولس نے آن لائین 50 تا 60 فیصد نصاب کی تکمیل کرلی ہے۔