سرکاری اسکولوں کی ترقی کیلئے ارکان اسمبلی سے فنڈس کا حصول

   

Ferty9 Clinic

ہر سال 25 فیصد فنڈس فراہم کرنے کی تجویز ، کابینی سب کمیٹی کی عنقریب سفارشات
حیدرآباد۔14۔نومبر (سیاست نیوز) ریاست میں تعلیمی شعبہ کی ترقی اور سرکاری اسکولوں میں بہتر انفراسٹرکچر فراہمی کیلئے حکومت نے ارکان مقننہ ترقیاتی فنڈ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ارکان اسمبلی کے حلقہ جاتی ترقیاتی فنڈ میں ہر سال 25 فیصد رقم سرکاری اسکولوں کیلئے مختص کرنے کو لازمی قرار دیا جائیگا ۔ فنڈس الاٹمنٹ کے ذریعہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی ضرورتوں کی تکمیل ہو سکتی ہے۔ عام طورپر سرکاری اسکول طلبہ کیلئے سہولتوں سے محروم ہیں اور حکومت کے پاس انفراسٹرکچر کے سلسلہ میں فنڈس کی کمی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے حکومت ارکان اسمبلی کے ترقیاتی فنڈ سے 25 فیصد حصہ اسکولوں کیلئے مختص کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ ارکان اسمبلی کو بھی اسکولوں کی ترقی کی طرف متوجہ کیا جاسکے۔ حکومت نے وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کی قیادت میں چار رکنی سب کمیٹی تشکیل دی جس میں وزیر فینانس ہریش راؤ ، وزیر آئی ٹی کے ٹی راما راؤ اور وزیر پنچایت راج دیاکر راؤ شامل ہیں۔ کمیٹی کا مقصد سرکاری اسکولوں کی حالت کو سدھارنا ہے۔ کمیٹی نے دو برسوں میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کیلئے 4000 کروڑ کی ضرورت ظاہر کی ۔ حکومت کیلئے بیک وقت 4000 کروڑ کی فراہمی آسان نہیں ہے ۔ کورونا وباء کے بعد سے ریاست کا خزانہ نقصان سے دوچار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے حکومت کو تجویز پیش کی گئی کہ ارکان اسمبلی کے ترقیاتی فنڈ سے 25 فیصد حصہ سرکاری اسکولوں کیلئے حاصل کیا جائے۔ حکومت ہر سال حلقہ جاتی ترقیاتی فنڈ کے طور پر ہر رکن اسمبلی کو 5 کروڑ روپئے فراہم کرتی ہے۔ نئے منصوبہ کے تحت ہر رکن اسمبلی کو سالانہ 1.25 کروڑ روپئے سرکاری اسکولوں کی ترقی کیلئے مختص کرنے ہوں گے۔ اس طرح 119 ارکان اسمبلی سے حکومت کو سالانہ 148 کروڑ روپئے حاصل ہوں گے جسے سرکاری اسکولوں کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا ۔ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے بتایا کہ کمیٹی عنقریب حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور تجاویز پر آئندہ کابینی اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ حکومت نے 2021-22 ء کے دوران بجٹ میں 4000 کروڑ روپئے سرکاری اسکولوں کو عصری بنانے کیلئے مختص کئے ہیں۔ ترقیاتی فنڈ کے ذریعہ اسکول کی عمارتوں کی تعمیر ، موجودہ عمارتوں کی مرمت اور طلبہ کیلئے فرنیچرس، ٹائلٹس ، پانی اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ر