سرکاری اسکول میں جنسی زیادتی،ٹیچر اور وائس پرنسپل معطل

   

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے منگل کے روز سرکاری اسکول میں مبینہ جنسی زیادتی کی اطلاع پولیس کو دینے میں ناکام رہنے والے اسکول کے متعلقہ اساتذہ اور نائب پرنسپل کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے، جن کو ایک بچے نے اس کی اطلاع دی تھی۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں طلبہ وطالبات کی مجموعی ترقی کیلئے اسکولوں میں محفوظ و مامون ماحول کیلئے دہلی حکومت کے پختہ عزم کا یقین دلایا۔دہلی کے ایک سرکاری اسکول میں مبینہ جنسی زیادتی کے واقعہ کے بعد وزیر اعلی اروند کجریوال نے متعلقہ اساتذہ اور پولیس کو واقعے کی اطلاع دینے میں ناکام رہنے والے وائس پرنسپل کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ جب بچوں میں سے ایک نے انہیں اس کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر وزیر تعلیم آتشی نے تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ کو خط لکھا ہے کہ وہ تمام پرنسپلوں اور اساتذہ کی پاکسو کی دفعات پر سخت تربیت کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔دریں اثناء دہلی کے ایک سرکاری اسکول کے استاد پر گزشتہ ہفتے ایک کلاس کے اندر چند طلباء کے خلاف مبینہ طور پر فرقہ وارانہ گالیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے کہا کہ اس نے اپنی کلاس میں مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے طلباء کو نشانہ بنایا، اور مزید کہا کہ طلباء کی کونسلنگ جاری ہے۔ ڈی سی پی شاہدرہ روہت مینا نے کہا کہ کیس کے تمام حقائق کی جانچ کے بعد مناسب قانونی کاروائی کی جائے گی۔