سرکاری اسکول میں طالبات کے بال کٹوانے کا تنازعہ

   

Ferty9 Clinic

قبائیلی لڑکیوں کے ساتھ نازیبا سلوک پر سنسنی، چیف منسٹر کے ضلع میں واقعہ

حیدرآباد۔/14 اگسٹ، ( سیاست نیوز) ضلع میدک کے ایک سرکاری اقامتی اسکول میں لڑکیوں کے بال کٹوانے کا واقعہ تنازعہ کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ واقعہ منظر عام پر آنے تک لاعلم ضلع انتظامیہ نے بالآخر اس واقعہ پر انکوائری کا حکم جاری کردیا ہے۔ لیکن لڑکیوں کے والدین کا غصہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا باضابطہ طور پر اقامتی اسکول میں حجام کو طلب کرنے کے بعد لڑکیوں سے اجرت لیتے ہوئے ان کے بال کٹوائے گئے۔ یہ واقعہ کوئی دور دراز کے دیہی علاقہ میں نہیں بلکہ ضلع میدک کے ہیڈکوارٹر میں پیش آیا جس کی نمائندگی کرنے والوں میں چیف منسٹر بھی شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ گروکل کے نام سے بھی شہرت رکھتا ہے اس اقامتی سرکاری اسکول میں تقریباً 180 طالبات رہتی ہیں اور اول تا ششم جماعت طالبات پائی جاتی ہیں اور ان طالبات کا تعلق قبائیلی طبقہ سے بتایا جاتا ہے۔ اس پر ضلع میدک میں سنسنی پیدا ہوگئی ہے اور طلبہ تنظیموں نے بھی اس واقعہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور لڑکیوں کے بال کٹوانے کی اطلاع اور اجازت بھی ان کے والدین سے نہیں لی گئی۔ اس اطلاع کے بعد ضلع کلکٹر میدک مسٹر دھرما ریڈی نے کوآرڈینیٹر مسٹر نارائنا اور پرنسپل ارونا پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے وجہ طلب کی ہے اور واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اس واقعہ میں بی سی ویلفیر ڈپارٹمنٹ نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پانی کی قلت کے سبب ہی لڑکیوں کے بال کٹوانے کی نوبت آئی ہے۔ ہاسٹل میں پانی کی قلت کے سبب یہ اقدام کیا گیا۔ پرنسپل نے ضلع حکام کو پانی کی قلت کی اطلاع دی تھی اور بارہا توجہ دہانی کے باوجود بھی کوئی اقدام نہ ہونے سے اس طرح کا اقدام کیا گیا۔ امکان ہے کہ بہت جلد ضلع کلکٹر کی جانب سے ان عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔