سرکاری اعزازات سے ڈی سرینواس کی آخری رسومات

   

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے نظام آباد پہنچ کر خراج پیش کیا، یادگار کی تعمیر کا اعلان
حیدرآباد۔/30 جون، ( سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر لیڈر ڈی سرینواس کی سرکاری اعزازات کے ساتھ آج نظام آباد میں آخری رسومات انجام دی گئی۔75 سالہ ڈی سرینواس کا طویل علالت کے بعد کل حیدرآباد میں دیہانت ہوا تھا۔ ڈی سرینواس کی نعش کل رات نظام آباد منتقل کی گئی اور آج سرکاری اعزازات کے ساتھ آخری رسومات انجام دی گئیں۔ ڈی سرینواس کے بڑے فرزند ڈی سنجے نے مراسم انجام دیئے۔ دوسرے فرزند بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند اور افراد خاندان کے علاوہ کانگریس کارکنوں کی کثیر تعداد اس موقع پر موجود تھی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ نظام آباد پہنچے اور ڈی سرینواس کے افراد خاندان کو پرسہ دیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، ریاستی وزراء پی سرینواس ریڈی، ڈی سریدھر بابو، حکومت کے مشیر برائے اقلیت محمد علی شبیر، ضلع کے ارکان اسمبلی اور دیگر عوامی نمائندے اس موقع پر موجود تھے۔ 40 برس تک سیاست میں سرگرم ڈی سرینواس کو تمام پارٹیوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ نظام کالج سے بی کام کی تکمیل کے بعد ریزرو بینک آف انڈیا میں ملازمت کی۔ اسی وقت سیاست میں قدم رکھا اور اندرا گاندھی کی اپیل پر این ایس یو آئی سے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ وہ متحدہ آندھرا پردیش میں وزیر بھی رہے اور پارٹی میں کئی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ نظام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ ڈی سرینواس 2004 اور 2009 میں کانگریس کو برسر اقتدار لانے میں پردیش کانگریس صدر کی حیثیت سے اہم رول ادا کیا۔ انہوں نے اسٹوڈنٹ لیڈر کی حیثیت سے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ اگرچہ وہ کچھ وقفہ کیلئے کانگریس سے دور رہے لیکن سونیا گاندھی ان کا احترام کرتی تھیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس پارٹی ڈی سرینواس کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے افراد خاندان سے بات چیت کے بعد ڈی سرینواس کی یادگار تعمیر کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سرینواس کا دیہانت کانگریس کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ 1