ورک بک اور ماڈل پیپرس خریدنے پر زور ، طلبہ اور اولیائے طلبہ پریشان حال ، محکمہ تعلیمات خاموش تماشائی
حیدرآباد۔3جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے خانگی و سرکاری اسکولوں میں نصابی کتب کے علاوہ دیگر کتب کے ذریعہ تعلیم بالخصوص ورک بک کے استعمال پر عائد پابندی کی دھجیاں اڑائی جانے لگی ہیں اور محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کی جانب سے اس معاملہ میں کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کئے جانے کے سبب اسکول انتظامیہ کی من مانی پر اولیائے طلبہ و سرپرست ورک بک خریدنے کے لئے مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے ورک بک اور ماڈل پیپر کے استعمال کے خلاف سخت انتباہ دیئے جانے کے باوجود بھی خانگی اسکولوں کے علاوہ سرکاری اسکولو ںمیں بھی ماڈل پیپر اور ورک بک کے استعمال کے چلن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور نہ ہی اسکول انتظامیہ توجہ دہانی پر ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے کئی مقامات پر ورک بک اور ماڈل پیپر کا چلن جاری ہے اور اس عمل سے محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیدار خود واقف ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ اسے روکنے میں ناکام ہیں۔اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی جانب سے اس بات کی شکایات عام ہوتی جا رہی ہیں کہ اسکولوں میں ماڈل پیپر اور ورک بک کے استعمال کو روکنے کیلئے دباؤ ڈالنے پر اسکول انتظامیہ کی جانب سے واضح طور پر کہا جا رہاہے کہ حکومت کے احکام ضرور ہیں لیکن ان کے اسکول کی پالیسی ہے اسی لئے ماڈل پیپر اور ورک بک کا استعمال ناگزیر ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد نصابی کتب کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ پالیسی تبدیل کی گئی لیکن سال گذشتہ قطعی حکمت عملی اور فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا گیا
تھا کہ ریاست میں موجود سرکاری و خانگی اسکولوں میں نصابی کتب کے علاوہ دیگر کوئی کتابیں نہ پڑھائی جائیں اور نہ ہی نصابی کتب کو سمجھانے کیلئے ورک بک یا ماڈل پیپر کی مدد حاصل کی جائے لیکن حکومت کی جانب سے گذشتہ 5 برسوں کے دوران کئے گئے کسی بھی فیصلہ پر من و عن عمل آوری نہیں کی گئی بلکہ خانگی اسکولوں کے ساتھ اب تو سرکاری اسکولو ںمیں بھی ماڈل پیپر اور ورک بک کی مدد حاصل کرتے ہوئے طلبہ کو سمجھایا جانے لگا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداروں کی جانب سے منڈل سطح کے عہدیداروں کو اس بات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ جن اسکولو ںمیں ماڈل پیپر اورورک بک استعمال کئے جا رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے لیکن منڈل سطح پر موجود عہدیداروں کی جانب سے ان شکایات کو نظر انداز کیا جا رہاہے جس کے سبب اسکول انتظامیہ کی من مانی کا سلسلہ جاری ہے۔
